.

فلسطینی اسیر کو جبری خوراک دینے کے لیے ڈاکٹر کی تلاش!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کو جبری خوراک دینے کا متنازع قانون منظور تو کرلیا مگر اس پر عمل درآمد میں کئی تکنیکی رکاوٹیں حائل ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے جبری خوراک دینے کے قانون پر کڑی تنقید کے بعد صہیونی حکام قیدیوں کو خوراک دینے کی ذمہ داری کسی سول ڈاکٹر سے لینا چاہتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیر محمد علان کے وکیل جواد بولس نے گذشتہ روز جیل میں اپنے موکل سے ملاقات کی۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بولس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام علان کو جبری خوراک دینے کی تیاری کررہے ہیں مگر اُنہیں ابھی تک کسی سول ڈاکٹر کی خدمات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔ حکام کسی ڈاکٹر کی تلاش میں ہیں جو اپنی ذمہ داری پر فلسطینی بھوک ہڑتالی کو جبری خوراک دینے پر رضامندی ظاہر کرے۔

انہوں نے بتایا کہ بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بہ طور پر احتجاج اس کی بھوک ہڑتال کو 56 دن گذر چکے ہیں۔ دو ماہ کی بھوک ہڑتال نے ان کے موکل کی صحت پر غیرمعمولی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی جیلر انہیں جبری خوراک دینے کے اذیت ناک عمل کی تیاری کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جواد بولس نے بتایا کہ بھوک ہڑتالی قیدی محمد علان بصارت کی کمزوری کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ خود حرکت نہیں کرسکتے ہیں۔ نقاہت کا عالم یہ ہے کہ انہیں باتھ روم میں بھی سہارے سے لے جایا جاتا ہے۔ وہ مسلسلے قے بھی کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محمد علان کو عسقلان جیل کے برزلائی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں رکھا گیا ہے جہاں ہمہ وقت چھ جیلر اس کے پاس موجود ہیں۔ اس کا دایاں پائوں اور بایاں ہاتھ بیڈ سے باندھے گئے ہیں۔ قیدی نے کسی بھی قسم کے میڈیکل ٹیسٹ کرانے اور علاج سے انکار کردیا ہے۔

خیال رہے کہ بھوک ہڑتالی اسیر30 سالہ محمد علان کو نومبر 2014ء کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف دو ماہ قبل بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اگرچہ صہیونی حکام ان پر کوئی الزام ثابت نہیں کرسکے ہیں تاہم اسلام جہاد سے تعلق کے شبے ان کی انتظامی حراست میں دو بار توسیع کی گئی تھی لیکن انہوں نے انتظامی حراست میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے دو ماہ قبل بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔

اسلامی جہاد کے ایک دوسرے رہ نما الشیخ خضرعدنان بھی طویل بھوک ہڑتال کے بعد جیل سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت 5686 فلسطینی قیدیوں میں سے 379 کو بغیر کسی الزام کے محض انتظامی قید میں رکھا گیا ہے۔