.

جرمنی کا عراق میں کردوں پر کیمیائی حملے کی تصدیق سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے شمالی علاقے میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف جنگ آزما کرد فورسز پر چند روز قبل کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا ہے جبکہ جرمنی کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شمالی عراق میں داعش کے خلاف نبرد آزما کرد فورسز پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی تصدیق نہیں کرسکتے۔تاہم وزارت نے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

قبل ازیں وزارت دفاع کے تر جمان نے جمعرات کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ ''عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل کے جنوب مغرب میں پینتیس کلومیٹر دور واقع علاقے مخمور میں کرد فوجیوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا''۔

اس حملے کے نتیجے میں بعض کرد جنگجوؤں کا نظام تنفس متاثر ہوا ہے اور انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بعض فوجیوں کے گلے ،آنکھوں اور ناک پر جلنے سے زخم آئے ہیں۔بعض کو قے شروع ہوگئی تھی لیکن انھیں تربیت دینے والے جرمن فوجیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ بغداد سے امریکی اور عراقی ماہرین صورت حال کے جائزے کے لیے اربیل روانہ ہو گئے ہیں۔انھوں نے فوری طور پر داعش کو کیمیائی ہتھیاروں کے اس حملے کا ذمے دار قرار نہیں دیا ہے۔

کرد فورسز البیش المرکہ کے ترجمان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ داعش کی جانب سے اس طرح کے حملے عام ہیں۔ترجمان جنرل حول کرد نے بتایا کہ ''داعش کے جنگجو گذشتہ سات ماہ سے البیش المرکہ کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کررہے ہیں''۔

البیش المرکہ کے عہدے داروں نے اس سے پہلے بدھ کو ایک کرد نیوزویب سائٹ کو بتایا تھا کہ امریکی اور فرانسیسی ماہرین کا ایک وفد کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں زخمی فوجیوں کے معائنے کے لیے علاقے میں پہنچ گیا ہے۔ان کے جلے ہوئے زخمی اعضاء کے نمونے تجزیے کے لیے لیبارٹری میں بھجوا دیے گئے ہیں۔

البیش المرکہ کے ایک کمانڈر محمد خوشاوی نے بتایا ہے کہ گذشتہ رات ہمارے ٹھکانوں پر پینتالیس مارٹر گولے فائر کیے گئے تھے۔ہمیں یقین ہے کہ ان مارٹروں میں کیمیائی مواد تھا کیونکہ ان سے ہونے والے زخم مختلف ہیں۔

ان کا کہناہے کہ علاقے میں موجود البیش المرکہ کے فوجیوں کو گیس ماسک پہننے کی ہدایت کردی گَئی ہے۔العربیہ نیوز کا اس معاملے پر تبصرے کے لیے اربیل میں کرد حکومت کے محکمہ خارجہ تعلقات سے رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

واضح رہے کہ داعش پر ماضی میں بھی عراق میں کرد فورسز کے خلاف زہریلی گیس استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے جاچکے ہیں۔کردستان کی خود مختار حکومت نے مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کو جہادی گروپ کی جانب سے 23 جنوری کو ایک کار بم حملے میں کلورین گیس استعمال کرنے کے شواہد ملے ہیں۔