شامی شہریوں پر حملوں سے اقوام متحدہ ''صدمے'' سے دوچار

دوما پر شامی فوج کے تباہ کن فضائی حملے کی مذمت ،شہریوں کے تحفظ کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی امور کے سربراہ اسٹیفن او برائن نے شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع شہر دوما میں اسدی فوج کے تباہ کن فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

انھوں نے سوموار کو دمشق میں حملے کے ایک روز بعد نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''میں اس تنازعے مِں شہری زندگیوں کی مکمل بے احترامی پر صدمے سے دوچار ہوں اور مجھے خاص طور باغیوں کے زیرقبضہ شہر دوما پر فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر بہت افسوس ہوا ہے''۔انھوں نے شہریوں پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے لڑاکا طیاروں نے دوما پر اتوار کو کم سے کم دس فضائی حملے کیے تھے اور ان میں چھیانوے افراد ہلاک اور دوسو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔شامی فوج کسی ایک حملے میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

اس دوران اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار اسٹیفن اوبرائن شام کے تین روز دورے پر دمشق میں موجود تھے۔ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے شامی تنازعے کے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہریوں کا تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں۔

بیان کے مطابق مسٹر اوبرائن نے شامی حکام کے ساتھ اقوام متحدہ کی انسانی امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے شام کے جنگ زدہ علاقوں میں محصور قریباً چھیالیس ہزار شہریوں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں انسانی امداد کی رسائی بمشکل ہورہی ہے۔

شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں کم سے کم چالیس لاکھ افراد اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں اور لاکھوں شامی اپنے ملک کے اندر ہی در بدر ہیں۔لڑائی میں اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں۔

شام میں اس وقت مختلف باغی جنگجو گروپ ایک جانب تو صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں اور دوسری جانب ان کی آپس میں بھی علاقوں اور وسائل پر قبضے کے لیے لڑائیاں جاری ہیں جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔اس گروپ نے شام اور عراق کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔اس تناظر میں شام میں جاری جنگ بڑی پیچیدہ صورت اختیار کرچکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں