.

حزب اللہ کے معاونین پر نئی امریکی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خزانہ نے لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مالی اور عسکری معاونت کرنے والی کمپنیوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لبنانی اخبار"النہار" کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خزانہ نے حزب اللہ کی مالی معاونت کرنے والوں حسین سرحان، عادل محمد شری سمیت کئی دیگر شخصیات، تجارتی شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں، حزب اللہ کو الیکٹریکل آلات اور جدید ٹیکنالوجی مہیا کرنے اور تنظیم کی عسکری سرگرمیوں میں کسی بھی شکل میں معاونت کرنے والوں پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی حزب اللہ کی معاون کمپنیوں میں علی زعیتر نامی ایک تاجر کی دو فرمیں بھی شامل ہیں۔

وزارت خزانہ کے فیصلے کی رو سے امریکا یا کسی بھی دوسرے ملک میں مذکورہ کمپنیاں اور شخصیات حزب اللہ کی معاونت نہیں کر سکیں گی۔ امریکا میں موجود ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان سے لین دین سے سختی سے روک دیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے بیروت میں قائم الیکٹرانکس کے آلات تیار کرنے والی کمپنی پر حزب اللہ کو جدید اور حساس نوعیت کے آلات فراہم کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ ان میں بغیر پائلٹ ڈرون طیارے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات تنظیم کو سول اور فوجی مقاصد کے لیے جدید آلات کی فراہمی میں ملوث رہی ہیں۔ ایک ایشیائی کمپنی بھی حزب اللہ کو ایسے ہی خطرناک آلات فراہم کرنے میں ملوث بتائی جاتی ہے جو چین اور دوسرے ملکوں سے حساس نوعیت کی آلات خرید کر کے حزب اللہ تک پہچاتی رہی ہے۔