ناپسندیدہ سوالات پر حزب اللہ کا صحافیہ کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے ملک کی ایک نامور صحافیہ اور ٹی وی شو کی میزبان کے خلاف ناپسندیدہ سوالات پوچھنے پر ہتک عزت اور بہتان طرازی کے الزامات کے تحت عدالت میں مقدمہ قائم کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صحافیہ اور ٹی وی شو کی میزبان دیما صادق پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے ایک ٹی وی ٹاک شو میں حزب اللہ کے مقرب فیصل عبدالساتر نامی لیڈر سے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے چبھتے ہوئے سوالات بھی پوچھے تھے جس پر انہوں نے دیما کے خلاف فوج داری عدالت میں مقدمہ قائم کیا ہے۔

دیما نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ" فیس بک" کے اپنے صفحے پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ عدالت کی جانب سے انہیں ایک نوٹس بھیجا گیا جس میں حزب اللہ کی جانب سے میرے خلاف دائر مقدمہ میں مجھے مدعلیھا قرار دیا گیا۔ عدالتی نوٹس میں کہا گیا کہ مدعی نے میرے خلاف ایک ٹی وی شو میں ہتک عزت اور بہتان ترازی کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ اس لیے مجھے 14 نومبر کو عدالت میں ہونے والی مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت کے روبرو پیش ہونا ہے۔

دیما کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے وکلاء کے پینل کو فیصل عبدالساتر سے پوچھے گئے سوالات کی فہرست اور اس کی تفصیلات بتا دی ہیں۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ عبدالساتر سے جو سوالات پوچھے گئے ہیں وہ بہتان اور ہتک عزت کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔ قانون کی رو سے یہ تمام سوالات محض تذکیر اور یاد دہانی میں شامل ہیں جو کسی بھی صحافی کو اپنے کسی بھی مہمان سے بلا امتیاز پوچھنے کا حق ہوتا ہے۔

غصے کا سبب!

حزب اللہ لیڈر فیصل عبدالساتر کی جانب سے دیما صادق کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیوں قائم کیا اور وہ کیا سوال تھا جس پر مہمان اس قدر مشتعل ہوئے اور میزبان کے خلاف عدالت جا پہنچے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دیما صادق کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پروگرام میں حزب اللہ رہ نما سے "کیٹاگون" نامی نشہ آور گولیوں کی اسمگلنگ کےایک کیس کی بابت سوالات پوچھے جو انہیں سخت ناگوار گذرے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیپٹا گون نشہ آور گولیاں ان علاقوں سے اسمگل کی گئیں جہاں پر حزب اللہ کا کنٹرول ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟۔ کیا حزب اللہ کی جانب اس واقعے کی تحقیقات نہیں کی گئیں؟۔

اس پر فیصل عبدالساتر نے کہا کہ حزب اللہ کیپٹاگون منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے اور نہ ہی ایسے کسی دھندے کی سرپرستی کر رہی ہے۔ اس پر دیما نے پوچھا کہ سنہ 2013ء میں لبنانی پولیس نے ایک کیس کی تحقیقات کے دوران بتایا تھا کہ حزب اللہ کے ایک مرکزی رہ نما حسین الموسوی کے بھائی کو کیپٹاگون کی اسمگلنگ میں ملوث پایا گیا ہے۔ مگر بعد میں یہ کیس دبا دیا گیا تھا۔ عدالت نے متعدد مرتبہ منشیات اسمگلر کو پیشی کے لیے طلب بھی کیا مگر ملزم غائب ہو گیا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ منشیات اسمگلر عناصر کو تحفظ فراہم کرتی رہی ہے۔ یہ گفتگو فیصل عبدالساتر کو سخت ناگوار گذری اور انہوں نے عدالت میں اپنی ٹی وی میزبان کے خلاف مقدمہ قائم کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں