روس کی فوجی مداخلت کے بعد شام میں 56 ایرانی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں اکتوبر کے اوائل سے حکومت مخالف باغیوں کے خلاف روس کی فوجی کارروائیوں کے بعد اب تک کم سے کم 56 ایرانی فوجی اور پاسیج ملیشیا سے وابستہ جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ مہلوکین میں پاسداران انقلاب کے تین سینیر عہدیدار بھی شامل ہیں جنہیں حال ہی میں حلب شہرمیں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

خبر رساں ایجنسی "مشرق" کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں پاسداران انقلاب کے تین عہدیدار حلب میں مارے گئے۔ شام میں صدر اسد کی حمایت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں میں محمد رضا ابراہیمی کا تعلق ایران کے اصفہان، بہزاد سیفی کا فارس اور ستارعباسی کا کرمنشاہ سے تھا۔ ان تینوں کو پچھلے مہینے حلب میں حکومت مخالف باغیوں کےساتھ لڑائی کے لیے بھیجا گیا تھا۔

شامی اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سوموار کی شام جنوبی حلب میں پاسداران انقلاب کے جنرل مسعود اکبری مارے گئے ہیں۔

منگل کو ایرانی فوج کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے شام میں مارے جانے والے جنرل حسین ھمدانی کے چہلم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول جنرل ھمدانی کا مزاحمتی قوتوں کی تشکیل میں اہم کردار تھا۔ انہوں نے شام میں بشارالاسد کی حکومت کے دفاع کے لیے ملیشیا تشکیل دی۔ اگر جنرل ھمدانی شام میں نہ ہوتے تو بشارالاسد تین سال قبل اقتدار سے ہاتھ دھو چکے ہوتے۔

جنرل جعفری نے کہا کہ شام میں امن واستحکام ایران کی سلامتی اور استحکام کے مترادف ہے۔ شام میں ایرانی فوج کے عسکری مشیر اور دوسرے عہدیداروں کی قربانیاں ایران کی سلامتی کے لیے ہیں۔ ایرانی فوجیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے شام کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔

درایں اثناء ایرانی وزارت خارجہ کے معاون برائے عرب و افریقی امور حسین امیر عبداللھیان نے کہا ہے کہ تہران دمشق کی مدد کو نہ پہنچتا تو بشارالاسد کب کے اقتدار سے محروم ہو چکے ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے عسکری مشیروں کی رہ نمائی شامی حکومت کے کام آئی ورنہ صدر بشارالاسد تین سال قبل ہی باغیوں کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے صدر بشارالاسد کو "سرخ لکیر" قرار دیا اور کہا کہ بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں