امریکی اتحاد نے شامی فوج کو نشانہ بنانے کی تردید کردی

دیرالزور میں ایک اڈے پر فضائی حملے میں 3 شامی فوجیوں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد نے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ایک اڈے پر فضائی حملے کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے ایک روز پہلے شامی فوج کے اڈے پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔اس حملے میں مبینہ طور پر تین شامی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی اتحاد کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم نے فضائی حملے سے متعلق شامی رپورٹس کو ملاحظہ کیا ہے لیکن ہم نے دیرالزور کے اس حصے میں کوئی حملہ نہیں کیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ اتحادی طیاروں نے دیرالزور میں شامی فوج کے اس اڈے سے کوئی پچپن کلومیٹر دور داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔دیرالزور میں اس حملے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مغربی صوبے دیرالزور کے زیادہ تر علاقے پر داعش کا قبضہ ہے۔گذشتہ سال ستمبر میں شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی مہم کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ اتحادی طیاروں نے شامی فوج کے اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

شامی فوج کے ایک ذریعے نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور بعض گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق دیرالزور کے قصبے آیاش کے نزدیک واقع صاعقہ فوجی کیمپ پر فضائی بمباری کی گئی تھی۔اس واقعے میں چودہ فوجی زخمی ہوگئے تھے اور ان میں سے تین بعد میں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے ہیں۔

دیرالزور شہر میں ایک اور فضائی حملے میں ایک خاتون اور اس کے دو بچے جاں بحق ہوگئے ہیں۔اس حملے کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امریکا کی قیادت میں اتحادی طیاروں نے کیا ہے۔اتوار کو داعش کے ''دارالحکومت'' الرقہ میں امریکی اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں بتیس جنگجو ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔لڑاکا طیاروں نے الرقہ میں داعش کے مختلف ٹھکانوں پر پندرہ فضائی حملے کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں