.

نائیجیریا: ایران نواز گروپ اور فوج میں تصادم، 30 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک نائیجیریا میں اہل تشیع مسلک کے ایران نواز گروپ اور مسلح افواج کے درمیان لڑائی میں کم سے کم تیس افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے فوج پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے ملک کے شمالی علاقے میں ان کے سربراہ کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائی کے دوران فائرنگ کر کے کئی افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پولیس نے آرمی چیف پر قاتلانہ حملے کی سازش کے الزام میں ایران نواز گروپ کے سربراہ کی گرفتاری کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس دوران وہاں پر موجود مسلح افراد نے فوج اور پولیس پر حملہ کر دیا تاہم جوابی کارروائی میں کئی افراد مارے گئے۔

نائیجیریا میں پیش آنے والے اس واقعے کو ایرانی ذرائع ابلاغ میں بھی غیرمعمولی اہمیت دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ملک کے شمالی ریاست کادونا کے زاریا شہر میں واقع حسینیہ امام بارگاہ پر فوج کے دھاوا بولا اور وہاں پر موجود اہل تشیع مسلک کے کئی افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

نائیجریا کے مقامی اخبار’’ پریم ٹائمز‘‘ نےعینی شاہدین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گذشتہ روز فوج کے مسلح جوانوں نے اہل تشیع مسلک کے ایک مرکز اور حسینیہ امام بارگاہ کا گھیرائو کیا، جس کے بعد وہاں پر فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔۔

قبل ازیں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے خبر دی تھی کہ نائیجیریا کی فوج نے 13 دسمبر کو اہل تشیع مسلک کے ایک رہ نما کی رہائش گاہ کا گھیراو کرنے کے بعد وہاں پرموجود متعدد افراد کو گولیاں مار ہلاک کر دیا ہے۔

پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی’’فارس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کی فوج نے ملک شیعہ مسلمانوں کی نمائندہ ’’اسلامی تحریک‘‘ نامی تنظیم کے دفتر اور تنظیم کے سربراہ ابراہیم زکزاکی کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہین گرفتار کرنے کی کوش کے دوران کم سے کم پانچ افراد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

قبل ازیں ہفتے کو انسانی حقوق کمیٹی کے نام سے سرگرم ایک گروپ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ زاریا شہر میں فوج کی کارروائی میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کےحوالے سے متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق فوج کو اس وقت کارروائی کرنا پڑی جب ایک شیعہ گروپ نے فوج کے قافلے پر حملہ کر دیا تھا۔ شدت پسندوں کے حملے کے بعد فوج کو جوابی کارروائی کرنا پڑی ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج نائیجیرین فوج نے شیعہ رہ نما پر آرمی چیف کو قاتلانہ حملے کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔