بغداد میں 25 سال کے بعد سعودی سفارت خانہ دوبارہ کھل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں پچیس سال کے بعد اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی 1990ء میں کویت پر چڑھائی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے اور سعودی عرب نے اپنا سفارت خانہ بند کرکے سفیر اور عملہ کو واپس بلا لیا تھا۔

عراق کی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ سعودی سفارت خانے کا پینتیس رکنی عملہ بدھ کو بغداد پہنچ گیا ہے۔اس کی قیادت سعودی عرب کے نائب سفیر کررہے تھے۔بغداد کے ہوائی اڈے پر وزارت خارجہ کے حکام نے ان کا خیرمقدم کیا۔

سعودی سفیر بھی آج جمعرات کو بغداد پہنچنے والے تھے اور انھوں نے سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔سعودی عرب عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل میں ایک قونصل خانہ بھی کھول رہا ہے۔

عراق اور سعودی عرب کے درمیان 1990ء میں کویت کے تنازعے پر سفارتی تعلقات منقطع ہوئے تھے اور یہ صدام حسین کے اس کے بعد دور حکومت میں منقطع ہی رہے تھے۔مارچ 2003ء میں امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی فوجوں کی عراق پر یلغار اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد 2004ء میں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوگئے تھے۔

تاہم عراق کے سابق شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کے دور میں دونوں ملکوں کے درمیان سرد مہری برقرار رہی تھی اور سعودی عرب نے بغداد میں اپنا سفارت خانہ کھولا تھا اور نہ سفیر بھیجا تھا۔عراقی حکام سعودی عرب پر داعش کی حمایت کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں جبکہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ عراقی قیادت اس کے علاقائی حریف ایران کے زیر اثر ہے اور اس وقت ایران کی حمایت اور تربیت یافتہ بہت سی شیعہ ملیشیائیں عراق میں داعش اور دوسرے گروپوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں