.

شام اور عراق میں قومی مفاد کے لیے مداخلت کی: ایران

امریکا عراق اور شام کو تقسیم کرنا چاہتا ہے:علی اکبر ولایتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت نے شام اور عراق میں مداخلت کی پالیسی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق اور بغداد میں تہران نے قومی مفاد کی خاطر مداخلت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے مخالفین کی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام اور عراق میں ایران کی مداخلت تہران کے قومی مفاد کا حصہ ہے۔

ایران کی طلباء خبر رساں ایجنسی’’ایسنا‘‘ کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی اکبر ولایتی کا کہنا تھا کہ اگر امریکا عراق پر قبضہ کر لیتا تو وہ ایران کی حدود کے قریب سمندر میں اپنا اڈا بنا لیتا۔ اس لیے عراق میں ایران کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔

مسٹر ولایتی کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں تیزی سے بدلتے حالات کے تناظر میں وجود میں آنے والے مزاحمتی محور اسلامی ممالک سے اتحاد کا حصہ بن کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔

شام کی ایران کے لیے اہمیت کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ شام مزاحمتی حلقے کی سنہری کڑی ہے۔ آج امریکی عراق اور شام کی تقسیم کی سازشوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد مشرق وسطیٰ کو تقسیم کرتے ہوئے اس کی قوت کو کمزور کرنا ہے۔

شام کے بحران کے حوالے سے عرب ممالک کے کرادر پر تنقید کرتے ہوئے علی اکبر ولایتی نے کہا کہ شام کا دفاع ایران کے قومی مفادات کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران نے اپنے اتحادی بشارالاسد کے دفاع کے لیے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ خطے کی مخالف قوتوں نے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کی پوری کوشش کی مگر صدر اسد آج بھی اپنی جگہ قائم و دائم ہیں۔ اگر ہم شام میں اپنے دشمن کا مقابلہ نہ کرتے تو وہ آج ہماری سرحدوں پر پہنچ چکا ہوتا۔