شام: لبنانی حزب اللہ کا لیڈر اسرائیلی حملے میں ہلاک

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے دمشق کے علاقے جرمانا میں چار میزائل داغ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا ایک سرکردہ لیڈر شام کے دارالحکومت دمشق میں اسرائیلی فوج کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

حزب اللہ نے اتوار کو ایک بیان میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ''اسرائیلی طیارے نے دمشق کے نواحی علاقے جرمانا میں علی الصباح ایک عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔اس حملے میں سمیر القنطار شہید ہوگئے ہیں''۔مگرشامی صدر بشارالاسد کے اس اتحادی گروپ نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر نے اس الزام کی تصدیق نہیں کی ہے کہ صہیونی فوج نے دمشق میں ایک رہائشی علاقے پر فضائی حملہ کیا ہے۔اسرائیل نے قنطار کو 2008ء میں حزب اللہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہا کیا تھا اور وہ اسی سال اس تنظیم سے وابستہ ہوگئے تھے۔ان کا بیروت واپسی پر ہیرو کے طور پر خیرمقدم کیا گیا تھا۔وہ دروز تھے اور ان کی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک لبنانی شیعہ خاندان میں شادی ہوئی تھی۔

قنطار اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد عوام کی نظروں سے اوجھل رہے تھے لیکن ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں حزب اللہ کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ حزب اللہ نے اپنے سیکڑوں جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کے لیے بھیجے ہوئے ہیں۔تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ وہ شام میں جاری لڑائی میں کیا کردار ادا کررہے تھے۔

ان کے بھائی باسم قنطار نے اپنے فیس بُک صفحے پر ان کی موت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ''ہمیں فخر ہے کہ ہمارا لیڈر سمیر قنطار شہید ہوگیا ہے اور ہم بھی شہداء کے خاندانوں میں شامل ہوگئے ہیں''۔

شام کے سرکاری میڈیا نے ''دہشت گرد گروپوں'' کو دمشق میں اس حملے کا ذمے دار قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن اس نے سمیر القنطار کی موت کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔اسد حکومت کی وفادار ملیشیا سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ دمشق میں دھماکے اسرائیلی فوج کے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں ہوئے تھے۔

شامی حکومت کے ان وفاداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے دو لڑاکا طیاروں نے جرمانا میں واقع ایک عمارت پر چار میزائل داغے تھے۔شامی دارالحکومت کے نواح میں اس علاقے میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کا کنٹرول ہے اور یہاں زیادہ تر دروز اقلیت اورعیسائی آباد ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران متعدد فضائی حملے کرچکی ہے۔اس سال جنوری میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایران کے ایک میجر جنرل اور حزب اللہ کے چھے ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ان کی گاڑیوں کو شام کے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں کے ساتھ واقع صوبے القنیطرہ میں میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔مرنے والوں میں حزب اللہ کے ایک مقتول لیڈر عماد مغنیہ کے بیٹے بھی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں