.

داعش پر عراق میں فرقہ واریت پھیلانے کا الزام

شدت پسند عراقی فوج کا بھیس بدل کر کارروائیاں کرنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مرتکب سمجھی جانے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ اپنے مذموم مقاصد کے لیے فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عراق اور شام میں شدت پسندوں کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد کے ترجمان اسٹیف وارن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’داعش‘‘ عراق کے شہر الرمادی میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں داعش کی جانب سے اپنے جنگجوؤں میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عراقی فوج کے یونیفارم سے مشابہت رکھنے والے کپڑے پہن کر کارروائیاں کریں اور ان کی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر پوسٹ کر کے عراقی فوج کو بدنام کریں۔ داعش کی جانب سے شدت پسند جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عراقی فوج کا بھیس بدل کر مساجد میں بم دھماکے کریں اور یرغمال بنائے گئے عام شہریوں پر وحشیانہ مظالم اور ان کے قتل کی تصاویر کو بھی انٹرنیٹ کے ذریعے مشتہر کر کے رمادی میں فرقہ واریت کو ہوا دیں۔

ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق اسٹٰیف وارن کا کہنا ہے کہ رمادی میں 250 سے 350 کے لگ بھگ داعشی جنگجو موجود ہیں۔ چند سو جنگجوؤں نے رمادی کے شمالی اور مغربی محاذوں کو بھی کنٹرول میں لے رکھا ہے۔

مسٹر وارن کا کہنا ہے کہ رمادی کی داعش کے چنگل سے آزادی یقینی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ رمادی کو داعش سے چھڑانے کا آپریشن مشکل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے اور اس میں وقت بھی لگے گا۔