.

بغداد میں دھماکوں کے بعد سنیوں کی مسجدوں پر حملے تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیکیورٹی ذرائع اور مقامی حکام کے مطابق بغداد میں دو دھماکوں کی داعش کے جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے بعد مشرقی عراق میں سنیوں کی کم ازکم سات مساجد اور درجنوں دکانوں کو آگ لگا دی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مزید 10 افراد کو بغداد سے 80 کلومیٹر دور مقام مقدادیہ میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ داعش کی عراق میں مقبولیت اور عراقی علاقوں پر قبضے کے بعد سے ملک میں فرقہ واریت کو مزید شہہ ملی ہے۔

اس طرح کی پرتشدد کارروائوں کے نتیجے میں معتدل شیعہ اسلام پسند عراقی وزیر اعظ٘م حیدر العبادی کی جانب سے عراق کے زیر تسلط علاقوں کو خالی کروانے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔

سعودی عرب میں شیعہ مبلغ نمر النمر کی سزائے موت کے بعد بغداد کے جنوبی علاقے میں مبینہ ردعمل کے طور پر کم ازکم دو سنی مساجد کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

عراقی حکام نے ان حملوں کے نتیجے میں پھیلنے والی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش میں مساجد پر حملوں اور ساتھ ہی پیر کے روز داعش کی جانب سے شیعہ نشانوں پر کئے جانے والے بم دھماکوں کی بھی مذمت کی۔

عراقی حکومت کی سنی مساجد کی نگرانی کی ذمہ دار باڈی کے سربراہ عبدالطیف الحمایم کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراقی وحدت کو ختم کرنے کی ایک مایوس کن کوشش ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے اپنے ایک بیان میں مساجد پر حملوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک ایک بار پھر فرقہ واریت کے سیاہ دنوں میں گھر جائے گا۔

شیعہ ملیشیاء 2014ء میں داعش کو بغداد اور جنوبی شیعہ مقدس مقامات پر قبضے سے روکنے میں بہت اہمیت رکھتی تھیں اور انہوں نے شدت پسندون کو کئی علاقوں سے باہر نکالنے میں عراقی فوج کی مدد کی ہے۔

ان ملیشیائوں کے کئی ارکان پر سنیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا جاچکا ہے جنہیں کئی بار مسترد یا باغی ارکان کے پیٹے میں ڈال دیا گیا ہے۔

دیالا کونسل کے ایک شیعہ رکن امل عمران نے مساجد پر حملوں کا الزام "ان گھس پیٹھیوں پر لگایا جو کہ ملیشیائوں کی عزت پر داغ لگانا چاہتے ہیں۔"

عینی شاہدین نے بتایا کہ منگل کے روز قتل ہونے والے افراد کو سیاہ اور فوجی لباس میں ملبوس مسلح افراد نے ان کے گھروں میں گھس کر یا سڑکوں پر گھسیٹ کر قتل کردیا۔

پولیس ذرائع اور مقامی افرا دکے مطابق مقدادیہ میں مسلح افراد گشت کررہے ہیں اور خاندانوں کو لائوڈ سپیکر کے ذریعے متنبہ کررہے ہیں کہ وہ فوری طور پر شہر چھوڑ دیں یا موت کے لئے تیار رہیں۔ ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔