.

یمن میں اتحادی افواج کی بمباری، حوثی کمانڈر ہلاک

تعز میں لڑائی جاری ، المسراخ میں ملیشیاؤں کے 23 جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں مستند ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران صنعاء میں اسلحے کے گوداموں اور صعدہ میں ضحیان اور دیگر علاقوں پر اتحادی افواج کے حملوں میں، حوثی باغیوں کے متعدد بڑے لیڈر مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ملیشیاؤں کے ایک سرغنے عبدالملک الحوثی کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

یمن میں مستند ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران صنعاء میں اسلحے کے گوداموں اور صعدہ میں ضحیان اور دیگر علاقوں پر اتحادی افواج کے حملوں میں، حوثی باغیوں کے متعدد بڑے لیڈر مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ملیشیاؤں کے ایک سرغنے عبدالملک الحوثی کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

ادھر تعز صوبے کے اطراف میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران صوبے کو حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے قبضے سے واپس لینے کے لیے اہم معرکے کی تیاری کی جا رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے صعدہ صوبے کے شہر ضحیان میں اتحادی افواج کی فضائی کارروائیوں میں مارے جانے والے لیڈروں میں محمد حميد بدر الدين الحوثی (ملیشیاؤں کے سرغنے کا بھتیجا)، عبدالله حسين الحوثی (ملیشیاؤں کے سرغنے کا بیٹا)، الحوثی کے دفتر کے دو رہ نماؤں علی حمود العزی اور أبو طه العجری کے علاوہ أحمد عبدالسلام العجری اور ہاشم الضحيانی شامل ہیں۔

دوسری جانب تعز میں قومی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں حوثی ملیشیاؤں کے 23 ارکان مارے گئے۔ عوامی مزاحمت کاروں کے ذرائع نے بتایا کہ یہ جھڑپیں المسراخ کے محاذ پر ہوئیں جب کہ الدحی، جولہ المرور، البعرارہ اور الحصب میں قومی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے حملوں کو پسپا کردیا۔ اس دوران ایک فوجی بکتر بند گاڑی تباہ ہونے کے علاوہ ملیشیاؤں کو بھاری نقصان پہنچا۔

یہ تمام لڑائیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب کہ تعز صوبے کو واپس لینے کے لیے فیصلہ کن آپریشن کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر فوجی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ قومی فوج، عوامی مزاحمت کاروں اور تعز کے گورنر کے مطابق مذکورہ فوجی آپریشن کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔