.

فلسطین: نیتن یاہو نے فرانسیسی الٹی میٹم مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیلی، فلسطینی تنازعے کے حل کے لیے فرانس کے مجوزہ امن اقدام کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینیوں کی سمجھوتے کو مسترد کرنے کے لیے حوصلہ افزائی ہوگی۔انھوں نے تنازعے کے حل کے لیے زیادہ ''شائستہ'' طرز عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیئس نے جمعے کے روز فلسطینی تنازعے کے حل کے لیے ایک بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر فرانسیسی منصوبہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے تعطل دور کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پیرس فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

فرانس کا یہ عندیہ مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی کا بھی مظہر ہے اور اگر مستقبل میں فرانس ایسا کرتا ہے اور اس کی تقلید میں یورپی یونین کے دوسرے رکن ممالک بھی فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرسکتے ہیں۔

نیتن یاہو نے اتوار کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں اپنی کابینہ کے اجلاس میں بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی تجویز کو واضح طور پر تو مسترد نہیں کیا ہے لیکن ان کے ایک معاون کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے موصول ہونے پر اسرائیل اس کا جائزہ لے گا۔البتہ اس منصوبے کی جو تفصیل منظرعام پر آئی ہے،وہ اس کے عدم آغاز کی مظہر ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ ''فرانس کی امن کوششیں کامیاب نہ ہونے کی صورت میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی ''دھمکی'' دراصل فلسطینیوں کے لیے ایک طرح کی حوصلہ افزائی ہے کہ وہ آگے تو بڑھیں مگر کوئی سمجھوتا نہ کریں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''میرا یہ تجزیہ ہے کہ اس معاملے میں ''شائستہ'' ہونا ہوگا۔ہم بہر صورت کوشش کریں گے اور ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ہم کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہیں''۔

قبل ازیں ہفتے کے روز فلسطینی صدر محمود عباس نے فرانسیسی تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔انھوں نے ایتھوپیا میں افریقی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ '' جوں کی توں'' صورت حال کو مسلسل برقرار نہیں رکھا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے فرانسیسی تجویز پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس بات کو ترجیح دے گا کہ اسرائیل اور فلسطینی براہ راست مذاکرات کے ذریعے ایک سمجھوتے کے تحت دیرینہ تمام تصفیہ طلب امور کو طے کریں۔تاہم فرانسیسی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی مقبوضہ بیت المقدس اور غربِ اردن میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے جاری سرگرمی کے پیش نظر فوری اقدام کرنا پیرس کی ذمے داری ہے جبکہ امریکا اس سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں الجھا ہوا ہے اور وہ سفارتی سطح پر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کے لیے کوئی کوششیں بھی نہیں کررہا ہے۔