"خلیجی موقف محترم: حزب اللہ سے مذاکرات جاری رہیں گے"
حزب اللہ شام اور یمن میں دہشت گردی میں ملوث ہے: حریری
لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے کہا ہے کہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ایک جرائم پیشہ اور خلاف قانون تنطیم ہے جو یمن اور شام میں دہشت گردی میں ملوث ہے مگر اس کے باوجود حزب اللہ سے بات چیت جاری رکھیں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعد حریری نے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے حزب اللہ کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دینے کے فیصلے کے بعد اپنے رد عمل میں کہا کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔
بیروت میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعد حریری کا کہنا تھا کہ میں خلیج تعاون کونسل کے فیصلے کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتا۔ میں حزب اللہ سے اس لیے بات چیت کی حمایت کر رہا تاکہ ملک میں نیا فتنہ اور فساد برپا نہ ہو۔
تاہم ساتھ ہی انہوں نے حزب اللہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ شام اور یمن میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم یمن اور شام میں دہشت گردی کے مخالف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں حزب اللہ کو اس دہشت گردی میں ملوث ہونے کی وجہ سےغیرقانوی اور ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہوں۔
-
عرب وزرائے داخلہ نے حزب اللہ کی سرگرمیوں کی مذمت کردی
متعدد عرب ممالک کے وزرائے داخلہ نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی بعض عرب ملکوں ...
بين الاقوامى -
حسن نصراللہ کا سعودی عرب کے خلاف ’اعلان جنگ‘
لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کے سربراہ حسن نصراللہ کی سعودی عرب دشمنی کسی سے ...
مشرق وسطی -
خلیج تعاون کونسل نے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا
چھے عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب ...
مشرق وسطی