شام میں لڑائی کے دوران ایرانی جنرل ہلاک

خامنہ ای نے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کی تجویز مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ شام کے شورش زدہ شہر حلب میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے ایک اور ایرانی جنرل نے اپنی جان شامی صدر پرقربان کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ بریگیڈیئر جنرل حسن علی شمس آبادی حال ہی میں حلب کے ایک نواحی علاقے میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے۔ ان کا تعلق ایران کے ضلع خراسان کےشمس آباد شہر سے ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر بشارالاسد کے اقتدار کا دفاع کرتے ہوئے انہیں اقتدار سے ہٹانے کی تجاویز مسترد کردی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’’بلٹن نیوز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شام میں گذشتہ سوموار کو حلب میں ہلاک ہونے والے بریگیڈیئر جنرل شام روانگی سے ایک روز قبل پاسداران انقلاب سے ریٹائر ہوئے تھے۔

میڈیا رپورٹس میں شام میں ہلاک ہونے والے کرنل احمد کودرزی کی تدفین کے مراحل بھی دکھائے گئے ہیں۔ کرنل کودرزی گذشتہ ہفتے کے روز شام میں مارے گئے تھے جس کے بعد ان کی میت ایران منتقل کی گئی تھی۔ وہ پاسداران انقلاب کی ’فیلق27‘ سے وابستہ تھے۔

شام میں حال ہی میں ہلاک ہونے والے ایک دوسرے کرنل حمزہ کاظمی کی یاد میں بھی ایک تقریب منعقد کی گئی جسے ایران ذرائع ابلاغ نے بھرپور کوریج دی۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شام میں ہلاک ہونے والے تینوں سینیر عہدیدار بشارالاسد کی فوج کی مشاورتی رہ نمائی پرمامورتھے۔

درایں اثناء ایرانی معاون وزیرخارجہ برائے عرب وافریقی امور حسین امیر عبداللھیان نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر کے نزدیک شامی صدر بشارالاسد ’سرخ لکیر‘ ہیں۔ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی کوئی تجویز قبول نہیں کی جاسکتی ہے۔

ایک ایرانی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا بھی شام کے بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پریقین رکھتا ہے۔

حسین امیر عبداللھیان نے مزید کہا کہ تہران کے لیے اسد رجیم سرخ لکیر ہیں جنہیں کسی صورت عبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہی بات مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہمیں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمشق دو مرتبہ ہاتھ سے نکلتے نکلتے بچا ہے۔ ایک بار سنہ 2013ء میں جب باغیوں نے دمشق کا گھیراؤ کرلیا تو یہ دمشق کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ مارچ سنہ 2011ء میں جب شام میں بغاوت پھوٹی تو تہران نے صدر اسد کو ملک میں وسیع پیمانے پراصلاحات پر زور دیا تھا اور ساتھ ہی انہیں کہاتھا کہ وہ قیدیوں کی عام معافی کا اعلان کریں۔ اس کے سوا ایران نے کسی دوسرے معاملے میں بشارالاسد پر زور نہیں ڈالا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں