زخمی داعشی 'وزیر جنگ' زندگی موت کی کشمکش میں!

شیشانی کو مصنوعی آکسیجن سے زندہ رکھا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں چند روز پیشتر امریکا کے فضائی حملے میں دہشت گرد گروپ دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے شدید زخمی ہونے والے "وزیرجنگ" ابو عمر الشیشانی کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور اسے مصنوعی تنفس کے ذریعےزندہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنےوالی انسانی حقوق کی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ابو عمر الشیشانی زندگی اور موت کی کمشکش میں مبتلا ہیں۔ مصنوعی طریقے سے ان کی سانس بحال رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آکسیجن کے بغیر ان کا سانس لینا نا ممکن ہے۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ اتحادی فوج کے ایک فضائی حملے میں داعش کا 'وزیرجنگ' ابو عمر الشیشانی شمال مشرقی شام میں ہلاک ہوگیا ہے تاہم بعد میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ الشیشانی شدید زخمی ہے اور اسے داعش کے زیرانتظام ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ الشیشانی کو حسکہ شہر کے نواحی علاقے الشدادی میں ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں داعش کے کئی دوسرے جنگجو بھی ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے اپنے تازہ بیان میں بتایا ہے کہ الشیشانی ابھی تک زندہ ہے مگراسے شمال مشرقی شام کے الرقہ شہر میں داعش کے زیرانتظام ایک اسپتال میں رکھا گیا ہے۔ اس کی نگرانی پرایک غیرملکی داعشی ڈاکٹر مامور ہے۔

واضح رہے کہ ابو عمر الشیشانی کا اصل نام طرخان تيمورازوفيتش باتيرشفيلی ہے جس کا تعلق جارجیا سے ہے۔ وہ اپنی بھوری داڑھی کی وجہ سے داعش میں اپنی مخصوص شناخت رکھتا ہے اور اسے داعشی خلیفہ کہلوانے والے ابوبکر البغدادی کا مقرب خیال کیا جاتا ہے۔

امریکا نے ابوعمر الشیشانی کے سرکی قیمت پانچ ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ الشیشانی داعش میں شمولیت کے بعد تنظیم کے کئی کلیدی عہدوں پر کام کرچکا ہے۔ خاص طورپر وہ داعش کا وزیر جنگ [وزیر دفاع] مشہور رہا ہے۔ الشیشانی شمال مشرقی شہروں حسکہ، حلب، مشرقی شہر دیرالزور میں کئی معرکوں کی قیادت بھی کرچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں