اقوام متحدہ اسرائیلی بستیوں کی مذمت میں قرارداد منظور کرے: محمود عباس
فلسطینی صدر محمود عباس نے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیر کردہ بستیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مذمتی قرارداد فوری طور پر منظور کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔
وہ مختلف ملکوں کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل ایک اہم موضوع ہے کیونکہ یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں اور اسرائیل کی جانب سے ان سرگرمیوں کو نہ روکنے کے بعد اب فوری طور پر قرارداد کی منظوری ضروری ہوگئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ فلسطینی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس موضوع پر قرارداد کا مسودہ پیش کرنے پر غور کررہے ہیں۔فلسطینی صدر نے تنازعے کے حل کے لیے نامناسب اقدام پر امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے اس موسم گرما میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے سے متعلق فرانسیسی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔
انھوں نے منگل کے روز ترکی کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل یہ گفتگو کی ہے۔وہ فرانس ،روس ،جرمنی اور نیویارک جائیں گے۔ان کے اس غیر ملکی دورے کا مقصد مشرقِ وسطیٰ امن عمل کی بحالی کے لیے کوششیں کرنا ہے۔اس وقت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل بالکل تعطل کا شکار ہے۔
امریکا اس سے پہلے متعدد مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کرچکا ہے لیکن اب یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ براک اوباما اپنی صدارت کے آخری دنوں میں اپنی سمت تبدیل کرسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے اگلے روز اسرائیل کی یہودی آبادکاری کے خلاف ایک مجوزہ قرارداد کا مسودہ عرب ممالک میں تقسیم کیا تھا۔اس میں مقبوضہ فلسطینیوں علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاروں کو بسانے کی مذمت کی گئی ہے اور اس اقدام کو امن کی راہ میں ایک رکاوٹ قراردیا گیا ہے۔
فلسطینی مشن کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں۔اس لیے اس جائزے کی بنیاد پر کونسل کے رکن ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد منظور کریں۔
فلسطینیوں نے فروری 2011ء میں سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف قرارداد کے حق میں چودہ ووٹوں کا حوالہ دیا ہے لیکن اس کو امریکا نے ویٹو کردیا تھا۔اس قرارداد میں اسرائیلی کی تعمیر کردہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی قراردیا گیا تھا اور ان کی تعمیرات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اسرائیلی روزنامے ہارٹز کی ایک رپورٹ کے مطابق فلسطینی اس قرارداد پر صدر محمود عباس کی نیویارک میں موجودگی کے وقت سلامتی کونسل میں رائے شماری چاہتے ہیں۔فلسطینی صدر 22 اپریل کو ایک اعلیٰ سطح کی تقریب میں شریک ہوں گے۔اس میں ایک سو تیس سے زیادہ ممالک تاریخی موسمیاتی سمجھوتے پر دستخط کریں گے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت القدس ،غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے بعد میں بیت المقدس کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اس اقدام کو بین الاقوامی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے۔اب تک کم وبیش چھے لاکھ اسرائیلیوں کو غرب اردن میں مختلف بستیوں میں بسایا جاچکا ہے لیکن عالمی برادری ان بستیوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔