ترکی سے غزہ کے لیے بھیجے گئے امدادی جہاز کی اسرائیل آمد
ترکی کی جانب سے غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں کے لیے بھیجا گیا دس ہزار ٹن امدادی سامان سے لدا بحری جہاز اسرائیل کی جنوبی بندرگاہ اشدود میں لنگرانداز ہوگیا ہے۔
بحری جہاز لیڈی لیلیٰ جمعہ کی شب ترک شہر مرسین سے روانہ کیا گیا تھا۔ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق جہاز 35 گھنٹے کی مسافت کے بعد اتوار کے روز اشدود کی بندرگاہ پر پہنچ گیا ہے۔
ترکی کی ڈیزاسسٹر اور ایمرجنسی مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز پر خوراک ،کھلونے ،کپڑے اور جوتے لدے ہوئے ہیں۔یہ سامان عیدالفطر کے آغاز سے قبل محصور فلسطینیوں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں کو دوبالا کرسکیں۔
ترکی اور اسرائیل کے درمیان چھے سال کی سفارتی اور سیاسی کشیدگی کے بعد گذشتہ ہفتے ہی تعلقات بحال ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں میں طے پائے سمجھوتے کے تحت ترکی سے بھیجے جانے والے امدادی سامان سے لدے بحری جہاز پہلے اسرائیل کی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہوں گے اور پھر وہاں سے انھیں غزہ کی پٹی کے لیے روانہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان 31مئی 2010ء کو غزہ کے لیے بھیجے گئے امدادی بحری جہازوں پر مشتمل فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے بعد تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔اس حملے میں نو ترک رضاکار شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کے ردعمل میں ترکی نے اسرائیل سے سفارتی ،اقتصادی اور سیاسی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔