.

انسان دوست کارروائیوں میں سعودی عرب دنیا میں اول نمبر پر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہلال احمر اور صلیب احمر کی عرب تنظیم کے مطابق عرب دنیا سمیت سارے عالم میں کہیں بھی کوئی بھی بحران پیش آتا ہے تو مملکت سعودی عرب مذہب اور نسل سے قطع نظر عطیات کے میدان میں پیش پیش رہتی ہے۔

عرب تنظیم کے سربراہ صالح السحیبانی کے مطابق سعودی عرب کے انسانی امداد کے منصوبوں نے اعداد و شمار کی بنیاد پر مملکت کو اس شعبے میں دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل کردیا ہے۔

مملکت میں King Salman Humanitarian Aid and Relief Centre کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ہنگامی اپیلوں پر انسانی امدادات کا سلسلہ نہیں کسی وقت بھی موقوف نہیں ہوا بلکہ اس حوالے سے اضافی امدادات جاری ہوئیں۔ اس کے ضمن میں 70 بین الاقوامی اور سرکاری ، مقامی یمنی تنظیموں کے ذریعے امداد پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ جون 2016 تک ہنگامی داد رسی اور اور طبی و ماحولیاتی امدادات کے 80 پروگراموں پر عمل درامد ہوا۔ ان پروگراموں کی مجموعیت مالیت 46 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان میں 18.6 کروڑ ڈالر یمن میں کام کرنے والی بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کے تعاون سے خرچ کیے گئے۔

کنگ سلمان سینٹر نے رواں سال کی دوسری شش ماہی کے دوران اپنے منصوبوں کے لیے 11 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ مملکت نے 27.4 کروڑ ڈالر کے عطیات کا وعدہ بھی پورا کیا۔ یہ وہ پوری رقم ہے جس کی اقوام متحدہ نے اپریل 2015 میں یمن کے لیے ہنگامی اپیل کی تھی۔

یاد رہے کہ ہلال احمر اور صلیب احمر سوسائٹیز کے بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے سعودی عرب کو انسانیت کی مملکت قرار دیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کئی دہائیوں سے لے کر ابھی تک سعودی عرب کا انسان دوست کارروائیوں ، عطیات اور امدادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ انسانیت کی بنیاد پر خیرسگالی کا یہ جذبہ جنگوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک میں سیاسی، اقتصادی، سماجی اور صحت سے متعلق مختلف شعبوں میں سامنے آتا رہا ہے۔