.

سیکڑوں یہود یوم گریہ پر مسجد اقصیٰ میں داخل، فلسطینیوں سے جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں سیکڑوں یہودی اپنے ایک مذہبی تیوہار کے موقع پر مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ بیسیوں کو صبح کے وقت وہاں سے بے دخل کردیا گیا ہے۔

اردن کے زیر اہتمام اسلامی وقف اور یہودی کارکنان کے مطابق چار سو سے زیادہ یہود صبح کے اوقات میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔دوپہر کے وقت اس سے زیادہ کی آمد متوقع تھی۔ یہود تيشـْعاه بئاف (التاسع من آب) کا تیوہار اس جگہ پر دو قدیم معابد ہیکل اول اور ہیکل دوم کی بابلیوں اور رومنوں کے ہاتھوں تباہی کی یاد میں مناتے ہیں اور اس موقع پر گریہ و زاری کرتے ہیں۔اس کا آغاز ہفتے کی شب ہوا تھا۔

اسرائیل نے اس موقع پر مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں خاص طور پر سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ہزاروں یہودیوں نے مسجد اقصیٰ سے متصل دیوار گریہ کے سائے میں بھی عبادت کی ہے۔انتہا پسند یہودیوں نے اپنے ہم مذہبوں کو مسجد اقصیٰ میں آنے اور وہاں عبادت کرنے کی ترغیب دی ہے۔

پولیس کے مطابق سات یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔انتہا پسند یہود کو قانونی امداد مہیا کرنے والے ایک وکالتی گروپ ہونینو کا کہنا ہے کہ ان میں سے تین کو دعائیہ کلمات پڑھنے اور ایک کو اپنی قمیص پھاڑنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق مسجد اقصیٰ میں یہودیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں پندرہ فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔فلسطینی اتھارٹی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ سے مسجد اقصیٰ میں یہود کی دراندازیوں کو رکوانے کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

مسلمانوں کے پہلے قبلہ اول اور تیسرے مقدس مقام مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہود کو ویسے تو مخصوص اوقات میں آنے کی اجازت ہے لیکن انھیں وہاں عبادت کی اجازت نہیں ہے اور وہ جب وہاں عبادت کی کوشش کرتے ہیں تو مسلمان مداخلت کرکے انھیں ایسا کرنے سے روک دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہود مسجد اقصیٰ کو ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے پکارتے ہیں اور اس کو اپنے لیے مقدس قرار دیتے ہیں۔یہیں ان کی مشہور دیوار گریہ واقع ہے جس کے نیچے وہ عبادت کرتے ہیں۔اسرائیل نے سنہ 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔