حوثیوں کا نیا گُل.. جامعہ صنعاء میں فارسی کی تعلیم کا شعبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں اکیڈمک ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ باغی حوثی ملیشیاؤں کے زیر کنٹرول جامعہ صنعاء میں فارسی زبان کے شعبے کے افتتاح کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جامعہ کی انتظامیہ نے کچھ روز قبل مذکورہ شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور شعبے میں طلبہ کے داخلے کے عمل کو فوری طور متعارف کرا دیا گیا تھا۔

انتظامیہ یہ ارادہ بھی رکھتی ہے کہ اکتوبر کے اواخر میں پڑھائی کے آغاز کے ساتھ ہی حوثیوں کے زیرانتظام ذرائع ابلاغ میں شعبہ فارسی کے متعارف کرائے جانے کا سرکاری اعلان کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک تقریب کا بھی انعقاد کیا جائے گا جس میں باغی ملیشیاؤں کی قیادت کے علاوہ ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کی شرکت بھی متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق شعبہ فارسی میں تدریس کے لیے اس عمارت کو استعمال میں لایا جائے گا جہاں اس سے قبل ترکی زبان کا شعبہ قائم تھا۔ حوثیوں نے گزشتہ برس سیاسی وجوہات کی بنا پر شعبہ ترکی میں تدریس کو روک دیا تھا۔

اس سے قبل ایک یمنی روزنامے نے 13 اپریل 2016 کی اشاعت میں بتایا تھا کہ جامعہ صنعاء کے حوثی نواز سربراہ فوزی الصفير نے صنعاء میں ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور مرتضی عابدین سے ملاقات کی تھی۔ دونوں شخصیات کے درمیان فارسی زبان کی سرکاری طور پر تعلیم کے لیے ایک شعبہ کھولے جانے کے امکان پر بات چیت ہوئی تھی۔

ذرائع کے مطابق شعبہ فارسی میں ان حوثی اساتذہ کا تقرر کیا جائے گا جنہوں نے اپنی اعلی تعلیم ایرانی جامعات میں حاصل کی۔

سیاسی تجزیہ کار سلطان عبدالله کا کہنا ہے کہ حوثی باغی یمن کی عرب اسلامی شناخت کو فارسی شناخت سے تبدیل کرنے پر کام کر رہے ہیں.. جامعہ صنعاء اور حوثیوں کے زیر قبضہ دیگر جامعات میں شعبہ فارسی کے افتتاح کا ارادہ اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں جامعہ صنعاء کے تمام شعبوں میں تدریس کا عمل کئی دنوں تک موقوف ہو گیا تھا۔ جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین نے حوثیوں کی جانب سے جامعہ پر دھاوے اور اپنے ہمنوا افراد کو جامعہ اور کلیات کے سربراہ بنانے کے خلاف احتجاجا مکمل ہڑتال شروع کر دی تھی۔ اس کے علاوہ جامعہ کے طلبہ حوثیوں کو جامعہ سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے متعدد مرتبہ مظاہرے کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں