آئندہ 48 گھنٹوں میں دابق پہنچ جائیں گے : شامی اپوزیشن رہ نما
شامی اپوزیشن کے ایک رہ نما نے پیر کے روز بتایا ہے کہ اگر تمام امور منصوبے کے مطابق چلتے رہے تو اپوزیشن جنگجوؤں نے 48 گھنٹوں کے اندر دابق کے قصبے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے ، یہ قصبہ داعش تنظیم کے زیرقبضہ ہے۔ تنظیم کے لیے اس علاقے کی مذہبی لحاظ سے بڑی اہمیت ہے۔
اپوزیشن رہ نما احمد عثمان کے مطابق دابق کی جانب پیش قدمی سست روی کے ساتھ ہوئی کیوں کہ داعش تنظیم علاقے میں بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں۔
ایک غیرملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاملات پروگرام کے مطابق چلتے رہے تو ان شاء اللہ ہم 48 گھنٹوں کے دوران دابق میں ہوں گے۔
احمد عثمان نے بتایا کہ اتوار کے روز "ترکمان بارح" گاؤں میں بارودی سرنگوں اور مارٹر گولوں کے حملے کے نتیجے میں اپوزیشن کے 15 جنگجو جاں بحق ہو گئے۔ مذکورہ گاؤں کو اپوزیشن جنگجوؤں نے ترکی کی سپورٹ کے ساتھ داعش تنظیم کے کنٹرول سے لے لیا تھا۔
-
عراق اور شام میں موجود ترک فوجیوں کے مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع
ترکی کی پارلیمان نے ہفتے کے روز کثرت رائے سے عراق اور شام میں موجود ترک فوجیوں کے ...
بين الاقوامى -
شام میں ایران کے کردار پر جرمنی کو "تشویش"
جرمنی کے ہفت روزہ جریدے Der Spiegel نے جمعے کے روز جاری اشاعت میں بتایا ہے کہ جرمن ...
مشرق وسطی -
روس نے شام میں اپنی فضائی طاقت میں اضافہ کردیا
روس کے ایک موقر اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو نے شام میں قائم اپنے ایک فوجی اڈے ...
بين الاقوامى