’قومی، مذہبی تنازعات کوانتخابات کا موضوع نہ بنایا جائے‘

مسلح افواج سیاست سے دور رہیں:خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے صدارتی امیدواروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران قومی اور مذہبی امور کو نہ اچھالیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کی طرف سے جاری کردہ ایک ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ قومی بیداری کے بعد مذہبی اور اور قومی نوعیت کے مسائل سیکیورٹی اداروں کے لیے جنون کی شکل اختیار کر چکے ہیں، بالخصوص صوبہ کردستان، عرب اکثریتی علاقہ اھواز، اہل سنت مسلک کی اکثریت کا حامل صوبہ سیستان بلوچستان، آذر بائیجان میں ترک اور ترکمان اقوام یا تومکمل طور پر آزادی چاہتی ہیں یا نیم خود مختار وفاقیت کی طلب گار ہیں۔ اس لیے یہ تمام حساس ایشوز ہیں کسی صدارتی امیدوار کے لیے ان امور پرسیاست کرنے سے سختی سے گریز کرے۔

خبررساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ کی جانب سے سیکیورٹی اداروں کے لیے 18 خصوصی ہدایات بھی جاری کی گئی ہٰں جن میں کہا گیا ہے کہ قومیت، فرقے اور مذہب کی بنیاد پر ایران میں جاری تنازعات کو نہ اچھالا جائے کیونکہ ان حساس معاملات پر بات کرنا قومی سلامتی کے مغائر ہے۔

خامنہ ای نے دستوری کونسل کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سال ہونے والے صداتی اور اس کے بعد پارلیمانی انتخابات کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کرے۔ دستوری کونسل اس بات کو یقینی بنائے کہ انقلابی معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدواروں اور سپریم لیڈر کی غیر مشروط اطاعت سے گریز کرنے والے افراد کو انتخابی عمل سے دور رکھا جائے۔

سپریم لیڈر نے ملک کے سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیاسی اور انتخابی اختلافات میں نہ پڑیں اور سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔

خیال رہے کہ ایران میں 19 مئی 2017ء کو نئے صدارتی انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں حصہ لینے کے اہل امیدواروں کے لیے چھان بین جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں