ایران انتقامی ثقافت کو پروان چڑھا رہا ہے : عراقی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کی خاتون رکن پارلیمنٹ لقاء وردی کا کہنا ہے کہ ایران اپنی وفادار ملیشیاؤں کے ذریعے عراق میں "سنیوں سے انتقام کی ثقافت" کو پروان چڑھا رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "عراقی عسکری اور سکیورٹی اداروں کو مسلکی ایجنڈوں" سے علاحدہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

اردن کے اخبار "اليوم" سے گفتگو کرتے ہوئے وردی نے کہا کہ "عراق کو گھسیٹ کر ایرانی افق تک لے جانے اور اسے اپنے قومی اور عرب سے متعلق سیاق سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں"۔

خاتون رکن پارلیمنٹ نے زور دیا کہ " حکومتی رجحانات میں مسلکی بہکاوے سے دور رہ کر عراقی تنوع کا اظہار ہونا چاہیے جس میں عرب تقریبا 80% ہیں"۔

لقاء وردی کا یہ بیان ان اندیشوں کے بیچ سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ موصل آپریشن میں شریک پاپولر موبیلائزیشن ملیشیائیں فرقہ وارانہ انتقامی کارروائیوں کا ارتکاب کر سکتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز پاپولر موبیلائزیشن اور عراقی سرکاری فورسز کو خبردار کیا تھا کہ وہ موصل میں داعش تنظیم سے فرار اختیار کرنے والے سنیوں کے خلاف "جنگی جرائم" اور "وحشیانہ انتقامی حملوں" کا ارتکاب نہ کریں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل تنظیم میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ سے متعلق پروگرام کے ریسرچ ڈائریکٹر فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ "عراق میں سنی عربوں کو جنگ اور داعش کی سرکشی سے نجات کے بعد ملیشیاؤں اور حکومتی فورسز کے ہاتھوں وحشیانہ انتقامی حملوں کا سامنا ہے"۔

لوتھر کے مطابق "عراق اس وقت حقیقی طور پر داعش کے ہاتھوں سکیورٹی اور خون ریزی کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے.. تاہم ماورائے عدالت قتل یا لاپتہ کر دیے جانے اور تشدد یا زبردستی گرفتاری کی کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عراقی حکام کو چاہیے کہ وہ اس نوعیت کی خوف ناک خلاف ورزیوں کے دوبارہ نہ دہرائے جانے کے واسطے لازمی اقدامات کرے۔ ساتھ ہی عراق میں داعش تنظیم کے انسداد کے لیے عسکری کوششوں کی سپورٹ کرنے والے ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ یہ بات واضح کر دیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہر گز آنکھیں موند کر نہیں رکھی جائیں گی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں