داعش کو ’الرقہ‘ میں تنہا کرنے کا امریکی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹن شدت پسند گروپ دولت اسلامی داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے شام کے الرقہ شہر میں بھی داعش کو تنہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار کو عراق کے صوبہ کردستان کے صوبائی دارالحکومت اربیل پہنچنے پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ داعش کو جتنا تنہا اور نہتا کیا جائے گا دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن اتنا جلد اپنے انجام کو پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے شمالی شہر موصل میں داعش کے گڑھ میں فوجی کارروائی کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس آپریشن کے ساتھ ساتھ داعش کے دوسرے اہم ترین مرکز شام الرقہ شہر میں بھی شدت پسند گروپ کو تنہا کرنے کی ضرورت ہے۔

آشٹن کارٹر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کے لیے شام کے الرقہ شہر میں بھی داعش کو جلد ازجلد تنہا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ شام میں ہمارے اتحادی داعش کو تنہا کرنے کے لیے اقدامات کرسکتے ہیں۔ ہم عراق میں موصل کے معرکے کے ساتھ ساتھ شام میں الرقہ میں داعش کے مرکز میں بھی فوجی کارروائی کرسکتے ہیں۔ اگر ان دونوں مراکز میں داعش کے خلاف ایک ہی وقت میں فوجی آپریشن شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں ہم داعش کو جلد شکست دے سکیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر کارٹر کا کہنا تھا کہ موصل اور الرقہ میں ایک ساتھ فوجی آپریشن ہمارے طویل المیعاد منصوبوں میں سے ایک تھا۔

خیال رہے کہ آشٹن کارٹر کل اتوار کو عراق کے صوبہ کردستان پہنچے تھے جہاں انہوں نے اربیل حکومت کے عہدیداروں سے موصل میں جاری داعش کے خلاف آپریشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

آشٹن کارٹر نے بغداد میں عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی سے ملاقات کے بعد صوبہ کردستان کے وزیراعلیٰ مسعود بارزانی سے بھی ملاقات کی۔

حالیہ چند ایام میں کردستان کی البیشمرگہ فورسز نے موصل کے شمال اور مشرق کی سمت سے پیش قدمی کرتے ہوئے کئی اہم مقامات کا کنٹرول سنھبال لیا تاہم کرد فورسزکو موصل کے مرکز سے 20 کلو میٹر دو روک دیا گیا تاکہ موصل کے مرکز میں عراقی فوج کو داخلے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں