البغدادی کا صوتی پیغام: موصل میں خون کے دریا بہا دینے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایسا لگتا ہے کہ موصل کی واپسی کے لیے 17 اکتوبر کو بین الاقوامی اتحادی طیاروں کی معاونت سے شروع کیے جانے والے آپریشن میں عراقی فورسز کی قابل ذکر پیش قدمی نے اپنے آثار داعش تنظیم پر ڈالنا شروع کر دیے ہیں.. جس نے دو سال سے موصل پر قبضہ کر رکھا ہے۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب انٹرنیٹ پر داعش تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی کا ایک نیا صوتی پیغام جاری ہوا ہے۔ تقریبا تیس منٹ کے دورانیے پر مشتمل صوتی کلپ میں البغدادی نے اپنے جنگجنوؤں کا عزم اور حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے خودکش بم باروں کو "شہیدوں کے قافلوں" کے نام سے پکارتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ خون کے دریاؤں میں تبدیل ہوجائیں۔

داعش کے سربراہ نے تنظیم کے جنگجوؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ موصل کو نہ چھوڑیں بلکہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں۔ مورال بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے البغدادی نے کہا کہ یہ جامع جنگ یقینا ہماری فتح پر اختتام پذیر ہوگی۔ عراق سے تعلق رکھنے والے البغدادی نے جس کا اصلی نام ابراہیم السامرائی ہے موصل کے اہلیان سے مطالبہ کیا کہ وہ لڑائی جاری رکھیں اور خود کو حوالے نہ کریں۔

علاوہ ازیں البغدادی نے ترکی کے خلاف صریح طور پر جنگ کا اعلان کیا اور سعودی عرب کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس نے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ "اپنے غیض و غضب" کی آگ کا رخ شام میں داعش کے خلاف لڑنے والی ترکی کی افواج کی جانب کر دیں اور معرکے کو ترکی منتقل کر دیں۔ البغدادی نے زور دیا کہ ترکی معرکے میں داخل ہوچکا ہے لہذا اب اس کی سرزمین پر امن و استحکام کی دھجیاں اڑا دی جائیں۔

داعش سربراہ کا کہنا ہے کہ تنظیم کے بعض بڑے کمانڈروں کی ہلاکت سے "خلافت کمزور نہیں ہوئی"۔

البغدادی کا پیغام منظرعام پر آنے کے بعد موصل کے مشرقی حصے کی آبادی نے بتایا کہ جمعرات کی صبح شہر کا مشرقی حصہ زوردار دھماکوں سے گونج اٹھا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق شدت پسندوں نے عراقی فورسز کی جانب سیکڑوں راکٹ فائر کیے۔ ایک دوسرے مقامی رہائشی کا کہنا ہے کہ تنظیم کے جنگجو جمعرات کے روز موصل کی سڑکوں پر اپنے چہروں کو ڈھانپے بغیر نکل آئے اور ان کے چہرے پر گزشتہ دنوں کے مقابلے میں زیادہ عزم و حوصلہ نظر آرہا تھا۔ وہ بآواز بلند کہہ رہے تھے کہ اب ہم آخری دم تک کفار سے لڑیں گے۔

اس کے علاوہ موصل کے شمالی علاقے الحدباء میں داعش تنظیم کی گاڑیوں نے گشت بھی کیا جن کے ذریعے جنگجوؤں کو ثابت قدم رہنے کی دعوت دی جارہی تھی۔ مقامی آبادی کے مطابق ایسا نظر آتا ہے کہ شہر کو آزاد کرائے جانے میں متوقع وقت سے زیادہ عرصہ لگ جائے گا۔

اس نئے صوتی پیغام سے امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ داعش کو سخت ترین لڑائی کا سامنا ہے۔ تنظیم کے مضبوط ترین گڑھ کے دفاع کے لیے جاری یہ جنگ تنظیم کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی ہے۔

داعش کے لیے اس معرکے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کردستان کے صدر مسعود بارزانی کے دفتر کے سربراہ فؤاد حسين نے برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا "ان کی حکومت کو متعدد ذرائع سے یہ معلومات ملی ہیں کہ البغدادی موصل میں موجود ہے۔ لہذا اگر وہ مارا جاتا ہے تو اس کا مطلب پوری تنظیم ڈھے جائے گی"۔

حسین نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کرد پیشمرگہ فورسز نے سرنگوں کی ایک بڑی تعداد کا پتہ چلایا ہے جو تنظیم نے نواحی دیہات میں روپوش ہونے کے مقصد سے کھودی تھیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ داعش تنظیم شہر کے دونوں حصوں کو جوڑنے والے پلوں کو دھماکوں سے اڑا سکتی ہے۔ دریائے دجلہ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور شہر میں پانچ پل ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل البغدادی کا آخری صوتی پیغام دسمبر 2015 میں آیا تھا۔ اس پیغام میں اس نے اپنے پیروکاروں اور حامیوں کو اطمینان دلایا تھا کہ روس اور بین الاقوامی اتحاد کے فضائی حملے شام میں داعش کو کمزور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں