حفاظ قرآن سے بدفعلی کے مرتکب ایرانی قاری کی جان بخشی

خامنہ ای اپنے حواری کو بچانے کے لیے میدان میں کود پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران میں ایک درباری قاری کی جانب سے حفاظ قرآن سے بدفعلی کے جرم کے چونکا دینے واقعے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی رجیم کو خفت سے بچانے کے لیے’سنگین جرم‘ میں ملوث نام نہاد قاری کو معاف کردیا ہے۔ ذرائع کا خامنہ ای کی مداخلت کے بعد عدالت میں اس کے خلاف جاری کیس داخل دفتر کردیا گیا ہے۔

غیرملکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ذاتی طور پر حفاظ قرآن بچوں پرجنسی تشدد کے مرتکب درباری قاری سعید طوسی کی سزا معاف کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق خامنہ ای نے سعید طوسی کے کیس میں ذاتی دلچسپی لے کر ایرانی رجیم کو بدنامی سے بچانے کی کوشش کی ہے کیونکہ درباری قاری پر بدفعلی کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں پورا ایرانی نظام حکومت بدنام ہوسکتا ہے۔

غیرملکی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قاری سعید طوسی کے کیس کی سماعت ایک ماہ سے جاری تھی مگر خامنہ ای کی مداخلت کے بعد کیس داخل دفتر کردیا گیا ہے۔ قاری طوسی نے خود بھی اعتراف جرم کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے خلاف تین طلباء نے سات سال کے دوران متعدد بار جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے ثبوت مہیا کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ زیادتی کانشانہ بننے والے کم عمر لڑکوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ مدعیان نے ایرانی جوڈیشل اتھارٹی کے چیئرمین صادق لاریجانی کو ایک مکتوب بھی ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ قاری سعید طوسی کے جرم کے تمام ثبوت عدالت میں پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں