شہریوں پر بم باری کے بیچ مذاکرات نہیں ہو سکتے: شامی اپوزیشن
شامی مذاکرات کی سپریم کمیٹی کے جنرل کوآرڈی نیٹر ریاض حجاب نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور جنیوا معاہدے پر عمل درامد کیا جائے اور اسی کے ذریعے اقتدار کی حقیقی سیاسی منتقلی عمل میں لائی جائے۔ "العربیہ" نیوز چینل کے مطابق انہوں نے دوٹوک انداز میں باور کرایا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے جاری بم باری روکے جانے سے قبل مذاکرات کے لیے جانا ممکن نہیں۔
حجاب نے کہا کہ " ہم سابقہ ادوار کی طرح بے نتیجہ مذاکرات نہیں چاہتے۔ اگر کوئی ٹائم فریم اور واضح ایجنڈا نہ ہوا تو مذاکرات کے لیے نہیں جایا جا سکتا۔ اسی طرح شہریوں پر روس کی بم باری اور ایرانی پاسداران انقلاب اور فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کے ہاتھوں قتل کی کارروائیوں کے بیچ بات چیت نہیں ہو سکتی"۔
ادھر مذاکرات کی سپریم کمیٹی کے سربراہ اسعد عوض الزعبی نے "العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے اُس خبر کو بے بنیاد قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ حلب شہر سے اپوزیشن کے مسلح عناصر کے نکل جانے کے حوالے سے امریکا اور روس کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ الزعبی کے مطابق اپوزیشن کو نہ تو کوئی تجویز موصول ہوئی ہے اور نہ ہی وہ آمادہ ہوئی ہے۔
دوسری جانب ماسکو نے بھی حلب سے مسلح جنگجوؤں کے نکل جانے کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کی تردید کی ہے۔ ایک غیرملکی خبر رساں ایجنسی نے شامی اپوزیشن کے حوالے سے ان نکات کا ذکر کیا تھا جو روس اور شام نے حلب سے اپوزیشن جنگجوؤں کے کوچ کر جانے کے لیے تجویز کیے تھے۔