موصل: چھینے گئے علاقوں میں داعش کے خفیہ سیل سرگرم

رات کی تاریکی میں لوٹ مار اور قتل وغارت گری کا بازار گرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں عراقی فوج کےجاری آپریشن کےبعد داعش نے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔

مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے پتا چلا ہے کہ داعش نے ہاتھ سے نکل جانے والے علاقوں میں اپنے خفیہ سیل رات کی تاریکی میں متحرک کیے ہیں تاکہ عراقی فوج کو دھوکہ دے کر جانی نقصان سے دوچار کیا جاسکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ موصل کی مشرقی ساحلی پٹی میں غروب آفتاب کے بعد بجلی بند کر کے مکمل طور پر اندھیرا کیا گیا۔ تاریکی میں ڈوبے علاقوں میں داعش کے عناصر نے لوٹ مار، قتل وغارت گری اور علاقہ چھوڑنے کی کوشش کرنے والے شہریوں میں دھمکی آمیز تحریری پیغامات تقسیم کرنا شروع کر دیے۔ ان پیغامات میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ علاقہ نہ چھوڑیں۔ نقل مکانی کرنےوالوں کو قتل کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

موصل کے بعض مقامات پر داعشی دہشت گرد دن دیہاڑے لوٹ مار اور شہریوں کو ہراساں کررہے ہیں۔ اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے دوسرے علاقوں پر گولہ باری کی جاتی ہے۔ داعش کی جانب سے پہلی بار بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں سے عراقی فوج پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

مشرقی موصل میں داعش کو شکست فاش کے بعد تنظیم افرادی قوت اور اسلحہ کے حوالے سے بھی کافی کمزور ہوئی ہے۔ بالخصوص بھاری اسلحہ کی مقدار بہت کم رہ گئی ہے۔ داعشی جنگجو کندھے پر اٹھا کر داغے جانے والے ہاون راکٹوں کا بھی استعمال کررہے ہیں۔
بارود سے بھری گاڑیوں سے حملے کرنا داعش کا پرانا طریقہ واردات ہے اور یہ اب بھی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں