.

یہودی مراکزکو دھمکیاں،امریکی عدالت سے اسرائیلی ملزم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک عدالت نے باضابطہ طور پرایک 18 سالہ اسرائیلی نژاد امریکی پر تین ملکوں میں یہودیوں کے مراکز پرحملوں کا الزام عاید کیا ہے۔ 23 مارچ 2017ء سے اسرائیل میں گرفتار مائیکل رون ڈیوڈ کیدار پر الزام ہے کہ اس نے موبائل فون سے یہودی تنظیموں اور مراکز کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دھمکی آمیز پیغامات ارسال کیے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقات ادارے کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مائیکل کیدار کے دھمکی آمیز پیغامات محض دھوکہ نہیں بلکہ یہ وفاقی سطح کا ایک سنگین جرم تھا۔ ملزم کو اب عدالت کا سامنا کرنا ہوگا۔

امریکی وزارت انصاف کی طرف سے جیمزکومی کا ایک بیان نقل کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہودی تنظیموں اور مراکز پر حملوں کی دھمکیاں دینے والے اسرائیلی کے خلاف مقدمہ کی کارروائی جاری ہے۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا کہ امریکا کیدار کو اسرائیل سے حوالے کرنے کا مطالبہ کرے گا یا نہیں۔

یہودی مراکز پرحملوں کے مبینہ دھمکی آمیز پیغام جاری کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والے اسرائیلی مائیکل کیدار پریہ الزام ہے کہ اس نے تین ملکوں امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں یہودی مراکز کو حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

یہ دھمکی آمیز پیغامات جنوری اور مارچ کے درمیان سامنے آئے تھے۔ ملزم نے دھمکیوں کے لیے موبائل میں آواز تبدیل کرنے اور موبائل نمبر خفیہ رکھنے والا سافٹ ویئر استعمال کیا تھا۔ اس نے اپنے صوتی پیغامات میں کہا تھا کہ وہ یہودی مراکز میں بم نصب کرنے یا مسلح کارروائی کے ذریعے دسیوں افراد کو ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی وزیر انصاف جیف سیشنز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی شہری کے دھمکی آمیز بیانات سے یہودی مذہب کے پیرکاروں میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی۔ یہ ایک سوچا سمجھا خوف پھیلانے کا منصوبہ تھا۔امریکا اس طرح کے مجرمانہ افعال کی کسی کو اجازت نہیں دےگا۔

امریکی ریاست فلوریڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہودی مراکز پرحملوں کی دھمکیاں دینے والے ملزم نے فلوریڈا میں بھی یہودی مراکز کو حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ اس نے پولیس کو غلط معلومات فراہم کیں اور سائبر مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

دوسری طرف ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس کا موکل ذہنی عارضے کا شکار ہے۔