عالمی ایلچی کی شام کے نئے آئین کی تیاری کے لیے کمیٹی کی تجویز
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی میستورا نے جنگ زدہ ملک کا نیا آئین تیار کرنے کے لیے سول سوسائٹی اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
ڈی میستورا نے یہ تجویز شام کے متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں جاری امن مذاکرات کے چھٹے دور کے دوسرے روز پیش کی ہے۔اس کا مقصد شام میں سیاسی انتقال اقتدار کی صورت میں ملک کو کسی قسم کے آئینی خلا سے بچانا ہے۔
جنیوا میں جاری ان مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت (بریک تھرو) کی توقع نہیں ہے۔منگل کے روز شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں نے عالمی ایلچی سے الگ الگ ملاقات کی تھی۔حزب اختلاف کا وفد آج روسی نائب وزیر خارجہ گیناڈی گیتلوف سے ملاقات کرنے والا تھا۔
ڈی میستورا شام کے نئے آئین پر غور کے لیے مشاورتی میکانزم تشکیل دینے سے متعلق اپنی تجویز کے جواب کے منتظر تھے۔ البتہ انھوں نے انتقال اقتدار سے متعلق کسی ایشو پر بات کرنے سے انکار کردیا ہے اور وہ اس کو مذاکراتی عمل میں کسی قسم کی پیش رفت میں ایک رکاوٹ خیال کرتے ہیں۔
شامی حزب اختلاف نے حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔اس نے ڈی میستورا پر بھی زوردیا ہے کہ وہ اسد حکومت کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ اٹھائیں۔
ادھر شامی حکومت نے امریکا کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے دمشق کے نزدیک ایک جیل کے ساتھ شمشان گھاٹ بنا رکھا ہے جہاں قیدیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔شامی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس الزام کو جھوٹ اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد شام میں امریکی مداخلت کا جواز پیدا کرنا ہے۔
اس نے اس الزام کو ’’ہالی وڈ کا نیا پلاٹ‘‘ کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کا ہمیشہ سے یہ ریکارڈ ہے کہ وہ کسی فوجی جارحیت کے لیے اس طرح کے جھوٹے الزامات کا سہارا لیتا رہا ہے۔
دوسری جانب شامی حزب اختلاف کے ترجمان سالم مسلط نے کہا ہے کہ لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے شمشان گھاٹ کی موجودگی سے متعلق امریکی الزام قابل اعتبار ہے اور یہ کوئی حیران کن امر نہیں ہے۔
سالم المسلط نے جنیوا سے العربیہ چینل کے الحدث ٹی وی کو بتایا ہے کہ اسد حکومت کے بارے میں یہ ایک معروف بات ہے کہ وہ قیدیوں کو تفتیش کی غرض سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی رہتی ہے اور بعض لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔
درایں اثناء شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ اسدی فورسز نے حزب اختلاف کے زیر قبضہ علاقوں پر حملے تیز کردیے ہیں حالانکہ حال ہی میں طے پائے جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت انھیں تحفظ حاصل ہے۔