سیکڑوں فلسطینی قیدیوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں فلسطینیوں نے گذشتہ چالیس روز سے جاری بھوک ہڑتال ہفتے کے روز ختم کردی ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں قید قریباً ڈیڑھ ہزار فلسطینیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں 17 اپریل سے اجتماعی بھوک ہڑتال کررکھی تھی۔ بعد میں بھوک ہڑتال جاری رکھنے والے قیدیوں کی تعداد گیارہ سو کے لگ بھگ رہ گئی تھی۔ان کے حق میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔

فلسطینی حکام اور اسرائیل کی جیل سروس کے ایک بیان کے مطابق فلسطینی اتھارٹی اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے درمیان بات چیت کے بعد ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے اور قریباً آٹھ سو قیدیوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔ سمجھوتے میں اسرائیلی جیلوں میں بند قیدیوں کے بعض مطالبات پورا کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔

فلسطینی اسیروں سے جیل میں قید مقبول فلسطینی لیڈر مروان البرغوثی نے 17 اپریل کو اسرائیل کے خلاف احتجاج کے طور پر قیدیوں کے سالانہ دن کے موقع پر بھوک ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی جاری کی تھی اور اسرائیلی حکام سے بہتر طبی سہولتوں سے لے کر ٹیلی فون مہیا کرنے تک مختلف مطالبات کیے تھے۔

تنظیمِ آزادی فلسطین کی قیدیوں کے امور سے متعلق کمیٹی کے چئیرمین عیسیٰ قراقع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قیدیوں نے بھوک ہڑتال ختم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ تاہم انھوں نے سمجھوتے کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔ البتہ اسرائیلی جیل سروس نے کہا ہے کہ قیدیوں کی اپنے خاندان سے ہر دوسرے ماہ ملاقات کی سہولت بحال کردی جائے گی۔اسرائیل نے پہلے فلسطینی قیدیوں کی اپنے عزیز واقارب سے ملاقات پر پابندی لگا دی تھی۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زاید رعد الحسین نے بدھ کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے زیر حراست اور قید فلسطینیوں کی حالت زار بہتر بنائے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی ماضی میں بھی بھوک ہڑتالیں کرتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ انھوں نے اتنی زیادہ تعداد میں اجتماعی بھوک ہڑتال کی تھی۔ان میں سے اٹھارہ قیدیوں کی کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے حالت بگڑ گئی تھی اور تشویش ناک حالت کے پیش نظر انھیں اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاد ایردان نے فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال پر رعونت بھرے لہجے میں کہا تھا کہ ان سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ان وزیر صاحب کے حکم پر مروان البرغوثی کو ایک اور جیل میں منتقل کردیا گیا تھا اور وہاں انھیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا تھا۔

فتح تحریک کے رہ نما مروان البرغوثی اسرائیل کے خلاف دوسری انتفاضہ تحریک کے دوران میں کردار پر پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا بھگت ہیں۔وہ فلسطینیوں میں بہت مقبول لیڈر ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وہ جیل میں قید ہونے کے باوجود فلسطینی صدارت کا انتخاب جیت سکتے ہیں۔

اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قریباً ساڑھے چھے ہزار فلسطینی مختلف الزامات کی پاداش میں قید ہیں اور ان میں زیادہ تر قابض اسرائیلی فورسز کی چیرہ دستیوں کی مزاحمت کی پاداش میں پکڑے گئے تھے۔ ان میں باسٹھ خواتین اور تین سو کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فورسز نے پانچ سو فلسطینیوں کو انتظامی حراست کے متنازعہ قانون کے تحت جیلوں میں بند کررکھا ہے۔اسرائیلی حکام فلسطینیوں کو کوئی مقدمہ چلائے بغیر چھے ماہ تک زیرحراست رکھ سکتے ہیں اور اس مدت میں عدالتی حکم پر مزید چھے ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ یادرہے کہ یہ متنازعہ قانون برطانوی انتداب کے دور (1920ء سے 1948ء تک) سے تعلق رکھتا ہے اور اسرائیلی حکام اس قانون کا کسی بھی طرح کا احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو پس دیوار زنداں کرنے کے لیے عام استعمال کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں