حشد الشعبی میں نے بنائی، اس کا دفاع کروں گا: المالکی

شیعہ ملیشیا کو فوج اورپولیس میں ضم نہیں ہونے دیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق کے نائب صدر نوری المالکی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت الدعوۃ اور الحشد الشعبی مخالفین کے نشانے پر ہیں اور وہ انہیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے الحشد الشعبی میں نے قائم کی ہے۔ اسے نقصان پہنچانا مجھے نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں سابق عراقی وزیراعظم اور نائب صدر نور المالکی نے کہا کہ انقرہ کانفرنس میں مجھے، الحشد الشعبی اور ایران کو لگام دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ الحشد الشعبی کو اس لیے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ یہ تنظیم میں نے قائم کی ہے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ الحشد میں نے بنائی اور میں اس کا ہرممکن دفاع کروں گا۔ میں الحشد الشعبی اس لیے بنائی تاکہ عراق کو لاحق خطرات اور ایران کو نقصان پہنچانے کی سازشیں ناکام بنائی جاسکیں۔ اگر کوئی الحشد الشعبی کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ عراق کو اور مجھے نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت پر دباؤ ڈال اور ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ الحشد الشعبی کو ایک منظم دفاعی ادارے کی شکل میں برقرار رکھنے کے لیے قانون سازی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہم اسے اپنے پلان کے مطابق آگے بڑھانے کے پابند ہیں۔ الحشد الشعبی کی اپنی شناخت قائم رکھی جائے گی۔ اگر الحشد الشعبی کو فوج یا پولیس میں ضم کیا گیا تو وہ ختم ہوجائے گی اور اس کے قیام کے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔ اس لیے ہم اسے فوج اور پولیس میں ضم نہیں ہونے دیں گے۔

نوری المالکی نے علاحدگی پسند کرد رہ نما مسعود برزانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کرد صوبے کی علاحدگی کا مطالبہ موجودہ حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی قانون کے تحت مسعود برزانی آئینی وزیراعلیٰ نہیں رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں