میانمار : 2021 کی بغاوت کے بارے میں لکھنے والا امریکی بزنس مین گرفتار

ایڈم کاسٹیلو میانمار میں امریکی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور ملک میں ایک سکیورٹی کنسلٹنسی کمپنی کے بانی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

میانمار میں حکام نے ایک امریکی کاروباری شخصیت کو گرفتار کر لیا ہے جس نے 2021 کی فوجی بغاوت کے بارے میں یاد داشتیں لکھی تھیں۔ یہ بات آج ہفتے کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے نے دو با خبر ذرائع کے حوالے سے بتائی۔

ایڈم کاسٹیلو نے جو ایک سکیورٹی کنسلٹنسی کمپنی کے بانی ہیں، حال ہی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس میں انہوں نے پانچ سال قبل ہونے والی فوجی بغاوت کے دوران میانمار کی کاروباری برادری میں اپنے کام کے بارے میں لکھا ہے، جس کے باعث بہت سے غیر ملکیوں کو ملک چھوڑنا پڑا تھا۔

کاسٹیلو جو ماضی میں میانمار میں امریکی چیمبر آف کامرس کے سربراہ رہ چکے ہیں، انھوں نے اس ہفتے اپنے Linkedin اکاؤنٹ پر یہ خبر پوسٹ کی تھی کہ انہوں نے ملائیشیا میں اپنی کتاب کی تشہیری مہم مکمل کر لی ہے۔

میانمار کے سب سے بڑے شہر ینگون میں پولیس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ مذکورہ کاروباری شخصیت کو جمعرات کے روز ملک واپسی پر ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس ادارے کے موجودہ منیجر نے مقدمہ دائر کیا جس کے کاسٹیلو ماضی میں سربراہ تھے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ ادارہ میانمار میں امریکی چیمبر آف کامرس ہی ہے یا نہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ کاسٹیلو پر "امانت میں خیانت کے ایک معاملے میں جس کا تعلق جائیداد سے ہے" الزام عائد کیا گیا ہے... اور یہ ایسا جرم ہے جس کی سزا دس سال قید تک ہو سکتی ہے۔ مزید برآں عدالت نے جمعہ کے روز امریکی شہری کو دو ہفتوں کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

اس معاملے سے واقف ایک اور ذریعے نے بھی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کاسٹیلو کی حراست کی تصدیق کی، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
کاسٹیلو کی سکیورٹی کمپنی "اے جی ایس میانمار" کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی "رازداری کے اسباب" کا حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

کاسٹیلو کی کتاب میں میانمار میں ان کے کام کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، بشمول کتاب کے تشہیری متن کے مطابق "ناکام پابندیوں کی پالیسی پر وائٹ ہاؤس کا سامنا کرنا"۔

تشہیری متن میں یہ بھی لکھا ہے کہ "جب سفارت کار فرار ہو رہے تھے، کاسٹیلو وہیں موجود رہا، عملے کے انخلاء کے دوران گولیوں سے بچتا رہا اور ایک دم توڑتے ہوئے چیمبر آف کامرس کو ایک خوشحال کمیونٹی میں بدل دیا"۔

سال 2021 کی فوجی بغاوت نے آنگ سان سو چی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جنہیں گرفتار کر لیا گیا اور اس بغاوت نے میانمار کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ تب سے ملک پر ایک فوجی کونسل کی حکومت ہے۔

گذشتہ اپریل میں کونسل کے سربراہ من آنگ ہلینگ نے ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا، اس طرح وہ فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کے پانچ سال بعد ایک شہری عہدے سے اپنی حکومت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں