یمن : حوثیوں کے ہاتھوں 600 مبلغین گرفتار اور قتل ، 300 مساجد شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں انسانی حقوق کے وزیر محمد عسکر نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی اور معزول صالح کی ملیشیائیں اب تک 600 سے زیادہ مذہبی مبلغین کو گرفتاری ، تشدد اور موت کا نشانہ بنا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 300 سے زیادہ مساجد اور حِفظِ قرآن کے مراکز کو شہید اور تباہ کر دیا گیا۔

مذکورہ وزیر کے مطابق مبلغین کے خلاف گرفتاریوں ، تشدد اور قتل کی کارروائیاں باغیوں کے زیر قبضہ متعدد صوبوں میں ہوئیں.. تاہم یمنی وزیر نے موت کے گھاٹ اتارے جانے والے مبلغین کی تعداد نہیں بتائی۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق محمد عسکر کا کہنا تھا کہ عرب دنیا کو اس وقت شدت پسندی کے دو محاذوں کا سامنا ہے۔ ایک جانب داعش اور القاعدہ تخریب کاری میں مصروف ہیں اور دوسری جانب حزب اللہ اور حوثی باغی سرگرم ہیں۔

یمنی وزیر کے مطابق مسلح حوثیوں اور ان کی حلیف قوتوں نے یمنی عوام کے خلاف ہر قسم کی کارستانی انجام دی جس میں قتل ، گرفتاری ، تشدد ، اخباروں اور اخباری ویب سائٹوں کی بندش ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کی گرفتاری ، شہروں کا محاصرہ ، شہریوں کے لیے دواؤں اور غذائی مواد کو داخل ہونے سے روکنا اور مختلف ہتھیاروں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں اپنے حامیوں کی فرقہ وارانہ سوچ سے متاثر حوثی ملیشیائیں یمن میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں شدت پسندی کے نظریات مسلط کرنا چاہتی ہیں.. اگرچہ یمنی عوام ان نظریات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ اس ایجنڈے کے تحت باغیوں نے مساجد کو دھماکوں سے نشانہ بنایا یا اپنے ہمنوا خطیبوں کو مقرر کیا۔ اس کے علاوہ رمضان کی آمد پر شہریوں کو مساجد میں نمازِ تراویح ادا کرنے سے بھی روک دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں