یمن : رمضان میں بھی ملیشیاؤں کی جیلوں میں مغویان کھانے پینے سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے افراد کی ماؤں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ باغی رمضان کے مہینے میں بھی مغویوں اور جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کو منظم طور پر بھوکا رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہیں.. اس کے نتیجے میں جیلوں کے اندر مذکورہ افراد کی حالت غیر ہو گئی ہے۔

اس سلسلے میں مغیوں کی ماؤں نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 35 ویں اجلاس میں کونسل کے سربراہ اور ارکان سے اپیل کی ہے کہ ملیشیاؤں کی جیلوں میں ان کے بیٹوں کو بچایا جائے اور ان کی رہائی کے واسطے تمام تر قانونی اور انسانی وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔

مغویوں کی ماؤں کی جانب سے جمعرات کے روز دارالحکومت صنعاء میں انسانی حقوق کے ہائر کمیشن کی عمارت کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ اس دوران "چمچوں اور خالی پلیٹوں" کو بجا کر ملیشیاؤں کے ہاتھوں مغویوں کو غذا سے محروم رکھنے کی سخت مذمت کی گئی۔

اس موقع پر مغویوں کی ماؤں کے احتجاج کے بارے میں جاری بیان میں کہا گیا کہ "حوثی باغی ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک ان کے بیٹوں سے ملاقات کو روک دیتے ہیں۔ تمام مغویوں کے روزے دار ہونے کے باوجود حوثی عناصر ان کے لیے کھانے اور پینے کی اشیاء داخل نہیں ہونے دیتے"۔

بیان میں انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تنظیمیں مغویوں کی مشکلات کم کرنے ، ان کی رہائی کو ممکن بنانے اور موت کے خطرے سے دوچار ان کی زندگیوں کو بچانے سے قاصر ہیں۔

مغویوں کی ماؤں کے اتحاد کے بیان میں ان تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا گیا کہ کیا یہ تنظیمیں بعض جیلوں کا دورہ بھی نہیں کر سکتیں ہیں تا کہ خود اپنی آنکھوں سے اس غیر انسانی صورت حال کو دیکھ لیں جو ان کے بیٹوں کو درپیش ہیں۔ یہ تنظیمیں محض کھوکھلی سی تصدیق اور کمزور وساطت پر اکتفا کیے بیٹھی ہیں۔ انہوں نے حوثی اور معزول صالح کی مسلح ملیشیاؤں پر دباؤ ڈالنے کے واسطے کوئی طریقہ کار متعین نہیں کیا۔

یاد رہے کہ مغویوں کی ماؤں کے اتحاد کی جانب سے دو سال سے زیادہ عرصے سے دارالحکومت صنعاء میں کئی مرتبہ احتجاج کا عمل سامنے آ چکا ہے۔ یہ خواتین باغی ملیشیاؤں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ان کے بیٹوں کو رہا کیا جائے اور ان کے انجام کو ظاہر کیا جائے۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کی رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مغویوں کو باغیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان باغیوں نے ستمبر 2014 میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی ہزاروں سیاسی شخصیات ، کارکنان ، صحافیوں اور شہریوں کو جیلوں میں ڈال دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں