تمام فریق جنوبی شام میں سیز فائر کی پابندی کریں: امریکا

’’درعا سے جنگ بندی معاہدے کی متضاد اطلاعات آ رہی ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے جنوبی شام میں لڑائی روکنے اور متاثرین تک امداد کی رسائی یقینی بنانے کے لئے شامی اپوزیشن کے تمام مسلح گروپوں پر معاونت کے لئے زور دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی شام میں جنگ بندی پر عمل درآمد کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ بیان میں تمام فریقین پر محدود جنگ بندی پرعمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔

قبل ازیں شامی فوج کی جانب سے جنوبی شہر درعا میں ہفتے کے روز سے 48 گھنٹے حملے روکنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے مانیٹرنگ گروپ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز عملاً صرف تین گھنٹے فائرنگ بند رہی۔ اسدی فوج اور اپوزیشن فورسز کے درمیان جھڑپوں کےبعد سرکاری فوج نے دوبارہ گولہ باری شروع کر دی ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی معاونت سے شامی فوج نے درعا شہر سے باغیوں کو باہر نکالنے کے لیے کئی ہفتوں سے آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

گذشتہ روز شامی فوج کی طرف سے کچھ دیر کے لیے لڑائی روک دی گئی تھی تاہم اپوزیشن کے ایک رہ نما نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ شامی فوج کی طرف سے حملے نہیں روکے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے درعا میں حملے روکے جانے کی بات نہیں سنی۔ شامی فوج پر مسلسل بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہاں اس امر کی جانب اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اور روس دونوں جنوبی شام بالخصوص درعا شہر میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے رابطوں اور مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکا اور روس کی جانب سے جنوب مغربی شام، اردن کی سرحد سے متصل علاقے القنیطرہ اور اسرائیل کے زیر نگین وادی گولان کے قریب شامی علاقوں میں کشیدگی میں کمی کے لیے کوشاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں