.

اتحادی طیاروں نے شامی فوج کا بمبار طیارہ مار گرایا

الرقہ کے قریب اسدی فوج اور ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں قائم عالمی عسکری اتحاد کے نے شمالی شہر الرقہ کے قریب ایک بمباری طیارہ مار گرایا ہے۔ شامی فوج کا کہنا ہے کہ شامی فوج کا طیارہ الرقہ کے قریب اس مقام پر گر کرتباہ ہوا ہے جہاں امریکا کی حمایت یافتہ فورسز کی بڑی تعداد موجود ہے اور شامی فوج اس طرف پیش قدمی کررہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی فوج کی طرف سے اتوار کی شام جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اتحادی ممالک کے طیاروں نے الرقہ کے جنوبی علاقے الرصافہ میں ہمارے ایک بمبار طیارے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ داعش کے خلاف خلاف کارروائی کے لیے جا رہا تھا۔

ادھر امریکی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی طیارے کو اس وقت گرایا گیا جب وہ واشنگٹن کی حمایت یافتہ اپوزیشن فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا تھا۔

سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج کا طیارہ الطبقہ کے مقام پر اس وقت گرایا گیا جب اس نے ڈیموکریٹک فورس کے ٹھکانوں پر گولہ باری شروع کی۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں الرقہ کے قریب شامی فوج اور امریکا کی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے درمیان یہ پہلی جھڑپ ہے جس میں شامی فوج کا ایک بمبار طیارہ مار گرایا گیا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اتوار کو شامی فوج کا طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد الرقہ سے جنوب میں 40 کلو میٹر دور شامی فوج اور ڈیموکریٹک فورس کے درمیان دو قصبوں میں جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔