.

ایران نواز ملیشیائیں ہماری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں: عراقی کردستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں عراقی کردستان کی خاتون مندوبہ نے عراق میں موجود ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کو کرد آبادی کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موصل میں داعش کی شکست کے بعد ایران نواز شیعہ ملیشیائیں کرد علاقوں میں بدمنی کو ہوا دینے کی سازش کرسکتی ہیں۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسز بیان سامی عبدالرحمان نے کہا کہ ’ہمیں ایران نواز ملیشیاؤں تہران کی پروردہ بعض شخصیات سے شدید تشویش لاحق ہے۔ ہم نہیں مانتے کہ یہ ملیشیائی عراقی فوج کے ماتحت اور وزیراعظم حیدر العبادی کو جواب دہ ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں عراقی کردستان کی مندوبہ کا کہنا تھا کہ ایران نواز ملیشیاؤں کی اکثریت الحشد الشعبی کے پرچم تلے جمع ہے اور انہیں ایرانی حکومت کی طرف براہ راست مدد مل رہی ہے۔

سامی عبد الرحمان کا کہنا تھا کہ عراقی فوج اور الحشد الشعبی ملیشیا ہماری تشویش کو اہمیت نہیں دیتے۔ اگر ان کے سامنے کردوں کے خلاف کسی کارروائی کی شکایت کی جائے گی تو وہ اسے نہیں مانیں گے۔

آئندہ ستمبر میں عراقی کردستان کی ممکنہ علاحدگی کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم کے بارے میں بات کرتے ہوئے سامی عبدالرحمان نے کہا کہ ’آج تک ہم ریفرنڈم نہیں کرسکے، اب بھی نہیں تو پھر کب یہ کام کریں گے۔ سنہ 2003ء کے بعد تیار کردہ ریاستی دستور میں عراقی کردوں میں خود مختاری کے حصول کا شعور اجاگر ہوا ہے۔ عراق کے وفاقی جمہوری نظام کے تحت کردوں کو خود مختاری کا بھرپور حق حاصل ہے۔