.

معروف عراقی قبیلے کے سردار کا ایران میں اندوہ ناک قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے ایک بڑے قبیلے سے تعلق رکھنے والی شخصیت کے ایران میں وحشیانہ قتل کی خبر پھیل جانے کے بعد کربلا اور نجف کے صوبوں میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کربلا کے ایک بڑے قبیلے آل عیسی سے تعلق رکھنے والے شیخ "نعمہ هادی العيساوی" کو تقریبا تین ماہ قبل ایران کے شہر مشہد کا دورہ کرنے کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ شیخ کے قبیلے نے فرات کے وسطی علاقے میں ایرانی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

باخبر ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو واقعے کی تفصیلات کے حوالے سے بتایا کہ شیخ نعمہ ہادی العیساوی.. امام رضا کے مزار کی زیارت کرنے اور ایک طبی آپریشن کے واسطے ایران کے شہر مشہد گئے تھے۔ اس دوران "نامعلوم افراد کا ایک گروپ" شیخ کو ایک بلند مقام پر لے گیا اور شیخ کے پاس موجود رقم لُوٹ کر ان کو قتل کر دیا.. اس کے بعد شیخ کی لاش کے ساتھ مُثلہ کیا گیا اور پھر اس کو جلا کر پہاڑی سے نیچے پھینک دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس اندوہ ناک واقعے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ عراقی سرکاری اداروں نے اس خبر پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں بے فائدہ اقدامات کیے۔ آل عیسی قبیلے کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے واسطے ایرانی نظام اور دہشت گرد جنرل قاسم سلیمانی کے مقرب سمجھے جانے والے "بدر" ملیشیا کے کمانڈر ہادی العامری کو شیخ نعمہ کی تعزیتی مجلس میں شرکت کے لیے طلب کیا گیا مگر شیخ کے قبیلے نے العامری کو کربلاء میں منعقد مجلس میں داخل ہونے سے روک دیا۔

آل عیسی قبیلے نے شیخ نعمہ کے قتل کا الزام اُن ایرانی افراد پر عائد کیا ہے جن کے کربلا شہر کے دورے کے وقت شیخ اُن کی میزبانی کرتے تھے۔ یوٹیوب پر جاری وڈیو کے مطابق قبیلے کے لوگوں نے باور کرایا ہے کہ ایرانی حکومت مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

آل عیسی قبیلے کے مطابق ایرانی حکام نے شیخ نعمہ کی میت کو تین ماہ بعد اُن کے حوالے کیا اور ڈیٹھ سرٹفکیٹ میں طبعی وفات تحریر کرنے پر اکتفا کیا۔

کربلا صوبے میں آل عیسی قبیلے کے افراد اور عمائدین نے عراقی حکومت اور وزارت خارجہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تا کہ ایران میں شیخ نعمہ کے قتل کی تفصیلات اور وجوہات سامنے آ سکیں۔

عراقی وزارت خارجہ کا بیان

عراقی وزارت خارجہ کی جانب سے 8 جولائی بروز ہفتہ جاری کیے جانے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ واقعے سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے وزارت خارجہ تہران میں عراقی سفارت خانے ، مشہد میں عراقی قونصل خانے اور جرم کی تحقیقات کرنے والے متعلقہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ میں قبائلی کمیٹی کے سربراہ عبود العیساوی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بے توجہی کا اظہار کیا جا رہا ہے.. عراقی اور ایرانی حکام کی جانب سے واقعے پر پردہ ڈالنے اور اس کو جرم کے بجائے حادثہ شمار کیے جانے کی کوشش کی گئی۔