.

شامی طیاروں کی جنگ بندی کے باوجود مشرقی الغوطہ پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے ہفتے کو اعلان کردہ جنگ بندی ایک روز کے بعد ہی توڑ دی ہے اور اس کے لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت دمشق کے مشرق میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ میں متعدد حملے کیے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز جنگ بندی کے اعلان کے بعد قدرے امن رہا تھا۔ البتہ گولہ باری کے اکا دکا واقعات پیش آئے تھے۔

اس کی اطلاع کے مطابق آج مشرقی الغوطہ میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ دو قصبوں دوما اور عین طرمہ پر شامی لڑاکا طیاروں نے چھے فضائی حملے کیے ہیں۔تاہم شامی فوج یا حکومت نے ان حملوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

شامی فوج نے گذشتہ روز دوپہر سے مشرقی غوطہ میں جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔اس علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک باغی گروپ نے اس جنگ بندی کا خیرمقدم کیا تھا۔

شامی حزب اختلاف کے رہ نما احمد جربا کے زیر قیادت ایک سیاسی تحریک الغد نے قاہرہ میں الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔مصر اور روس نے اس جنگ بندی کو اسپانسر کیا ہے اور اس میں بڑے باغی گروپ بھی فریق ہیں۔

اس کے تحت مشرقی الغوطہ میں مکمل جنگ بندی ہوگی۔ سرکاری فورسز علاقے میں داخل نہیں ہوسکیں گی اور امدادی سامان کو وہاں لے جانے کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے کہ شام کےمغربی علاقوں میں قبل ازیں حکومت اور باغیوں کے درمیان روس اور امریکا کی ثالثی میں پہلے بھی متعدد مرتبہ جنگ بندی کے سمجھوتے ہوچکے ہیں لیکن وہ تھوڑے عرصے کے بعد ہی ٹوٹ جاتے رہے ہیں۔

امریکا ، روس اور اردن کے درمیان اسی ماہ شام کے جنوب مغربی علاقے میں جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا،اس کے بعد سے علاقے میں تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس سمجھوتے میں مشرقی الغوطہ کا علاقہ شامل نہیں ہے۔