.

شام کے اندر ایرانی ملیشیا شہری طیاروں کے ذریعے رات کو منتقل ہوتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹرنیٹ پر فارسی زبان کی ویب سائٹ WAR REOPRTS نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب رات کی تاریکی میں اپنی فورسز اور ملیشیا کو شام کے صوبوں کے درمیان منتقل کرتے ہیں۔ مذکورہ ویب سائٹ اُن ایرانی کارکنان کے زیرِ انتظام ہے جو خطے کے ممالک میں اپنے ملک کی فوجی مداخلت کے خلاف ہیں۔

ویب سائٹ نے پاسداران انقلاب کی قریبی ایرانی ویب سائٹوں سے لی گئی ایک تصویر نشر کی ہے جس میں فوجیوں کا ایک گروپ طیارے کے اندر نظر آ ر ہا ہے۔ طیارے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے پیر کے روز دمشق کے ہوائی اڈے سے اڑان بھری اور النیرب کے علاقے میں واقع حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اُترا۔

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی وجوہات اور زمینی راستوں کے خطرات کے پیشِ نظر ایرانی جنگجوؤں کو شہری طیاروں کے ذریعے رات کے وقت منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار شام میں دو برس قبل ایرانی پاسداران انقلاب کی فورس کے کمانڈر جنرل حسین ہمدانی کی ہلاکت کے بعد سے اپنایا گیا ہے۔ ہمدانی حماہ صوبے کے مشرق میں خناصر اور اثریا کے درمیان راستے پر ہونے والی جھڑپوں میں مارا گیا تھا۔

گزشتہ برس اگست سے ایران نے جنگجوؤں اور جدید اسلحے کو شام میں اپنی عسکری فورسز کے لیے شہری طیاروں کے ذریعے بھجوانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

یہ سلسلہ خطے میں دہشت گردی کی سپورٹ کے سبب ایرانی نظام پر عائد امریکی پابندیوں میں 10 برس کی توسیع اور نومبر 2015 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے تیسری قرارداد جاری ہونے کے باوجود جاری ہے۔ جنرل اسمبلی کی قرار داد میں شامی تنازع میں تہران کی مداخلت کی سخت مذمت کی گئی۔

ایرانی پاسداران انقلاب جنوبی اہواز میں واقع عبادان کے ہوائی اڈے کے ذریعے عراقی ملیشیا کے ہزاروں جنگجوؤں کو بیھج رہی ہے۔ ایرانی فضائی کمپنی ماہان کے طیارے ان جنگجوؤں کو دمشق پہنچاتے ہیں جہاں سے وہ حلب اور شام میں لڑائی کے دیگر علاقوں میں بٹ جاتے ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے 2011 میں ماہان فضائی کمپنی کو زیر پابندی کمپنیوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔ اس کی وجہ شامی عوام کے خلاف کریک ڈاؤن میں شرکت کے آغاز کے ساتھ ہی مذکورہ فضائی کمپنی کا پاسداران انقلاب کے زیر انتظام القدس فورس کو اسلحہ اور فوجی ساز و سامان پہنچانا تھا۔

امریکی جریدے "فوربز" کی رپورٹ میں ایران کو نئے شہری طیارے فروخت کرنے سے خبردار کیا گیا تھا۔ اس لیے کہ ماہان فضائی کمپنی کے ذریعے شام کی حکومت کے لیے ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی خفیہ طور منتقلی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

جریدے نے اس حوالے سے بھی خبردار کیا کہ ایران دہشت گردی کی سپورٹ کے واسطے نیوکلیئر معاہدے سے فائدہ اٹھا سکتی ہے بالخصوص جب کہ وہ ایک ایسے وقت میں اپنے تجارتی طیاروں کے ذریعے خطرناک کردار ادا کرتا رہا ہے اور ابھی تک کر رہا ہے جب شام میں انسانی بحران اپنی حدوں کو چُھو رہا ہے اور وہاں خون ریز جنگ کا شعلہ بھڑکا ہوا ہے۔

جریدے نے باور کرایا کہ ایرانی تجارتی طیارے ہتھیاروں اور عکسری اہل کاروں کو شام منتقل کرنے کے ذریعے مسلسل طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے اصولوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

ماہان فضائی کمپنی پہلی ایرانی کمپنی شمار کی جاتی ہے جس نے 2011 میں ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے شام کی سمت پروازیں چلائیں۔