.

امریکا کی حمایت یافتہ شامی فورسز کی داعش کے گڑھ الرقہ میں مزید پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی حمایت یافتہ شامی فورسز نے داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ شہر کے جنوب کی جانب پیش قدمی کی ہے اور اس کے ایک نواحی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

کرد عرب شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) نے گذشتہ سال داعش کے خلاف جنگی مہم شروع کی تھی اور وہ دھیرے دھیرے آگے آگے بڑھ رہی ہیں۔انھوں نے پہلے اس کا گھیراؤ کیا تھا اور جون میں وہ پہلی مرتبہ شہر کے ایک حصے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق کرد ملیشیا اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل ایس ڈی ایف کا اب شہر کے پچاس فی صد حصے پر کنٹرول ہوچکا ہے اور انھوں نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب شہر کے جنوبی علاقے نزلت شہداء پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں نے اس سے ملحقہ علاقے ہشام بن عبدالملک پر بھی مشرقی اور مغربی محاذوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں لڑائی جاری ہے۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’’ داعش کی الرقہ کے جنوبی علاقوں میں موجودگی نظر نہیں آرہی ہے اور ایس ڈی ایف کے جنگجو مشرقی اور مغربی محاذوں کی جانب سے پیش قدمی کررہے ہیں‘‘۔

امریکا کے داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کے لیے خصوصی ایلچی بریٹ میکگرک نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر یہ اطلاع دی ہے کہ ایس ڈی ایف نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران میں نمایاں پیش قدمی کی ہے اور اہم علاقوں پر قبضے کے علاوہ ایک سو شہریوں کو بھی رہا کرا لیا ہے۔

رامی عبدالرحمان کے مطابق ایس ڈی ایف کے جنگجو اب داعش کے الرقہ کے مرکزی گھنٹا گھر چوک میں واقع مرکزی ہیڈ کوارٹرز سے صرف چند سو میٹر ہی دور رہ گئے ہیں۔وہ شہر کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقے الثکانا کے قریب پہنچ چکے ہیں۔