.

حوثیوں کی بدولت یمنی ہواباز بُوٹی فروخت کرنے والا کیسے بن گیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں لڑاکا طیارے کے ایک ہواباز کی کہانی کو بڑی تعداد میں لوگوں کی ہمدردی حاصل ہو رہی ہے جس کو حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے بھڑکائی گئی جنگ نے ملک میں معروف بوٹی "قات" فروخت کرنے پر مجبور کردیا۔ بعض ممالک میں اس بوٹی کو نشہ آور مواد میں شمار کیا جاتا ہے۔

کپتان کرنل مقبل الکومانی نے فیس بک صفحے پر اپنی ماضی اور حال کی تصاویر جاری کی ہیں۔ ساتھ ہی اپنے دلوں کے زخموں کو ظاہر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ کبھی میں آسمان اور بادلوں کو سینے سے لگا رہا ہوتا تھا اور اب قات بوٹی کی بوریاں میری ساتھی ہیں"۔ باغیوں کی جانب سے آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد بہت سے یونی ورسٹی پروفیسر اور انجینئرز وغیرہ اپنے اصل پیشے سے محروم ہو کر سطحی نوعیت کے پیشوں کو اپنانے پر مجبور ہوئے۔

الکومانی کا کہنا ہے کہ "آسمانوں کی بلندیوں کو چُھونے والا شخص آج ایک مربع میٹر کی دکان کے اندر "قات" سے رشتہ جوڑے بیٹھا ہے۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں آزاد انسان کے طور پر پیدا ہوا تھا۔ اب تو یقینا یمنی عوام نے جان لیا ہو گا کہ ان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا سبب بننے والا کون سا قصور ہے؟ "

یمنی ہواباز الکومانی کی کہانی ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔ بعض حلقوں نے اس بات کا موازنہ کیا ہے کہ کس طرح ایک جنگی ہواباز قات فروش میں تبدیل ہو گیا جب کہ دوسری جانب حقیقت میں قات بوٹی فروخت کرنے والا محمد علی الحوثی باغیوں کی نام نہاد سپریم انقلابی کونسل کا سربراہ بن بیٹھا۔

الکومانی کے صفحے پر تبصرہ کرنے والے ہزاروں افراد نے بدقسمت ہواباز کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی باور کرایا ہے کہ بغاوت کے بادل چھٹنے والے ہیں اور یمن اپنے وقار کو دوبارہ حاصل کرے گا۔

یمن کے سابق وزیر ثقافت خالد الرویشان نے کپتان مقبل الکومانی کی کہانی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "مقبل الکومانی تم دوبارہ سے کپتان بنو گے اور یہ لوگ چلے جائیں گے"۔

کپتان الکومانی نے اپنی پوسٹ پر تبصرہ کرنے والے اور ہمدردی کا اظہار کرنے والے افراد کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ ایک غیر فطری صورت حال ہے جس کا جاری رہنا ناممکن ہے۔ اس میں وقت لگے گا مگر یہ حالات جاری رہیں ایسا ممکن نہیں"۔