العبادی کا تلعفر آپریشن کے آغاز کا اعلان ، الحشد الشعبی ملیشیا بھی شریک
عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے اتوار کو صبح سویرے تلعفر شہر کو واپس لینے کے لیے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کر دیا۔ تلعفر شمالی عراق کے صوبے نینوی میں داعش تنظیم کا آخری سب سے بڑا گڑھ ہے۔
سرکاری ٹی وی پر آپریشن کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے العبادی نے داعش تنظیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " تم لوگوں کے سامنے خود کو حوالے کرنے یا پھر مارے جانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے"۔ العبادی نے واضح کیا کہ آپریشن میں عراقی فوج ، وفاقی پولیس ، انسداد دہشت گردی فورس ، الحشد الشعبی ملیشیا اور مقامی فورسز شریک ہیں اور ان کو بین الاقوامی اتحاد کی معاونت بھی حاصل ہے۔
تلعفر کو واپس لیے جانے کا آپریشن عراقی وزیر اعظم کی جانب سے موصل شہر کو آزاد کرا لیے جانے کے اعلان کے دو ماہ بعد شروع ہوا ہے۔ موصل کی آزادی کے لیے کیا جانے والا عسکری آپریشن نو ماہ تک جاری رہا۔
تلعفر ضلعہ نینوی صوبے کا سب سے بڑا ضلعہ شمار ہوتا ہے۔ یہ موصل شہر سے 70 کلومیٹر مغرب میں شام کی سرحد کی جانب واقع ہے۔ اس کی آبادی کی تعداد تقریبا 2 لاکھ ہے جس میں اکثریت شیعہ ترکمانوں کی ہے۔
داعش تنظیم نے تقریبا تین سال قبل تلعفر کے وسط میں جھڑپوں اور وہاں سے عراقی افواج کے انخلاء کے بعد 15 جون 2014 کو اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں یہاں سے بڑی تعداد میں مقامی آبادی کی نقل مکانی دیکھنے میں آئی۔
زمینی ذرائع کے مطابق عراقی سرکاری فورسز 4 سمتوں سے پھیل گئیں۔ انہوں نے شدت پسندوں کے سامنے فرار کے تمام راستے بند کر دیے اور توپ خانوں سے شدید گولہ باری شروع کر دی۔
ذرائع کے مطابق تلعفر معرکے میں شریک عناصر کی تفصیل کچھ اس طرح ہے :
* 40 ہزار جنجگو جن میں 25 ہزار سرکاری فورسز کے اور 15 ہزار غیر سرکاری فورسز کے۔
* 5 ہزار جنگجوؤں کا تعلق العباس بریگیڈ سے جو عراقی وزارت دفاع کے تحت کام کرتا ہے۔
* شیعہ اور سنی ترکمانوں پر مشتمل فورس جس میں جنگجوؤں کی تعداد 5 ہزار ہے۔
* 5 ہزار دیگر جنگجو جن کا تعلق فیلق بدر ، ام البنین اور سید الشہداء بریگیڈز سے ہے۔
یہ تمام فورسز المحلبیہ اور العیاضیہ کے علاوہ موصل کے جنوب مغرب سے تلعفر کے اطراف تک پھیلے ہوئے 47 دیہات کے محاذوں پر داعش کا مقابلہ کریں گی۔ تلعفر کے مرکز میں عراقی انسداد دہشت گردی فورس ، نائنتھ آرمرڈ ڈویژن اور ریپڈ ایکشن فورس داخل ہو گی۔
مبصرین کے مطابق رقبے کے چھوٹے ہونے کے سبب تلعفر کا معرکہ موصل آپریشن سے کم وقت میں انجام تک پہنچ جائے گا۔ امریکی اور عراقی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم کے تقریبا 2000 جنگجو اب بھی شہر میں موجود ہیں۔
-
سعودی عرب اور عراق کے درمیان نئے اتحاد کے قیام کے لیے مذاکرات
عراق اور سعودی عرب کے درمیان ایک نئے اتحاد کے قیام کے لیے سنجیدہ بات چیت کا ...
بين الاقوامى -
’ایران کی سرحدیں شام، عراق اور بحر روم کے ساحل تک ہیں‘
ایرانی سپریم لیڈر کے مندوب نے ایک اور شوشہ چھوڑ دیا
بين الاقوامى -
عراق : تلعفر بھیجی جانے والی فوجی کمک کرکوک میں
عراق کے صوبے کرکوک میں سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبے میں وسیع پیمانے پر عسکری ...
مشرق وسطی