.

فلسطینی صدارتی محل پبلک لائبریری میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتخابات سے قبل عموما سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ نعرہ سننے کو ملتا ہے کہ اقتدار میں آکر وہ ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس یا گورنر ہاؤس کو لائبریریوں، عجائب گھروں یا دیگر پبلک مقامات میں بدل دیں گے۔

اس طرح کے نعروں پر عمل درآمد تو کم ہی کیا جاتا ہے مگر فلسطین میں عملا ایوان صدر کو پبلک لائبریری میں تبدیل کرکے ایک منفرد مثال قائم کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی وزیر برائے ثقافت ایھاب بسیسو نے رام اللہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ شمالی رام اللہ میں سردا کے مقام پر واقع ایوان صدر کو قومی لائبریری میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوان صدر فلسطین کی سب سے بڑی لائبریری میں بدل رہا ہے۔ جلد ہی صدارتی محل میں کتب کا سب سے بڑا ذخیرہ جمع کیا جائے گا۔

فلسطینی وزیر کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں قومی نوعیت کی لائبریاں عام ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایسی ہی لائبریری کا قیام اہمیت کا حامل ہوگا۔ ہم اپنی ثقافتی اور تہذیبی اقدار کے تحفظ کے لیے لوٹی گئی میراث واپس کرتے ہوئے فلسطینی ثقافت کو محفوظ کرنے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائیں گے۔

رام اللہ میں قائم فلسطینی صدارتی محل کی عمارت میں ’فلسطینی اقتصادی کونسل برائےتعمیرات وترقی‘[بکدار] کا دفتر بھی قائم ہے۔ صدارتی محل 4700 مربع میٹر پرپھیلی ایک کشادہ عمارت ہے جس کے اطراف میں 400 مربع میٹر کی خالی جگہ بھی موجود ہے۔ مجموعی طور پر 27 ہزارمربع میٹر کے علاقے پرپھیلے صدارتی محل میں ایک ہیلی پیڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔

صدارتی محل کو لائبریری میں بدلنے کی وجہ کےبارے میں پوچھےگئے ایک سوال کے جواب میں فلسطینی وزیر نے کہا کہ صدارتی محل کے قریب جامعہ بیرزیت جیسے کئی ثقافتی اور تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جگہ عمومی گذرگاہ اور رام اللہ اور البیرہ گورنری کا پرفضا مقام ہے۔

رام اللہ کے مذکورہ صدارتی محل اور مہمان خانہ پر پانچ سال قبل کام شروع کیا گیا تھا۔ یہاں پر صدر کی رہائش گاہ، سرکاری اجلاس منعقد کرنے اور غیرملکی وفود کی صدر سے ملاقاتوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔