امریکا معائنہ کاری نہیں، ایرانی حکومت تبدیل کرنا چاہتا ہے:باسیج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کی موبلائیزیشن فورس ’باسیج‘ کے سربراہ غلام حسین غیب پرور نے ایران میں بڑھتی امریکی مداخلت پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری نہیں بلکہ ایران کا سیاسی نظام تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ امریکا کے اصل ہدف ایران کے ’انقلابی‘ نظام کو ختم کرنا اور مرضی کی حکومت قائم کرنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں مسٹر غیب پرور نے کہا کہ ایران کی فوجی تنصیبات کی چھان بین اور معائنہ کاری سرخ لکیر ہے اور اسے کسی صورت میں عبور کربے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکیوں کا ایران کی فوجی تنصیبات میں داخلے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

باسیج فورس کےسربراہ نے ایران کی فوجی تنصیبات کو ملک کی مسلح افواج کے لیے مقام شرف قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرور قوتیں ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے سے کم پر راضی نہیں ہوں گی۔ ان کی جانب سے ایران کی عسکری تنصیبات کی معائنہ کاری کا مطالبہ پہلی بار نہیں آیا۔ ماضی میں بار بار یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں مگر ان مطالبات کے پیچھے متکبر ریاستوں کے کچھ اور عزائم کار فرما ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی حکومت نے ایران کی فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری کا مطالبہ کیا تھا جس پر ایران کے حکومتی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان محمد باقر نو بخت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری امریکا کا محض خواب ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیرہ نیکی ہالے پر ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔

قبل ازیں امریکی خاتون سفیر نے تہران کی جانب سے اپنی جوہری اور فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری کی اجازت نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ پر زور دیا کہ وہ سنہ 2015ء میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں میں طے پائے جوہری معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد یقینی بنائیں۔

خبر رساں ادارے’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے امریکی انتظامیہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات کے معائنے اور ان کی نگرانی سخت کرنے پر غور کررہے ہیں۔ امریکی حکم کا کہنا تھا کہ ایران یورینیم افزودگی کی مقدار کم کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اس لیے ایران کی فوجی تنصیبات کی چھان بین کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں