کردستان ریفرنڈم داعش کے خلاف لڑائی سے توجہ ہٹا دے گا : آنتونیو گوترش
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ عراقی کردستان کی عراق سے علاحدگی سے متعلق 25 ستمبر کو مقررہ ریفرنڈم "داعش تنظیم کو ہزیمت سے دوچار کرنے کی ضرورت اور واپس لیے جانے والے علاقوں کی تعمیرِ نو کی طرف سے توجہ ہٹا دے گا"۔
بین الاقوامی تنظیم کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا "جنابِ سکریٹری جنرل عراقی سرزمین کی خود مختاری ، سلامنی اور وحدت کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اتحادی حکومت اور کردستان ریجن کی حکومت کے درمیان معلق تمام تر معاملات کو باقاعدہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے"۔
ڈوجارک کے مطابق "اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل عراق میں تمام رہ نماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کے حوالے سے صبر کا مظاہرہ کریں اور جذبات کو قابو میں رکھیں"۔
اس سے قبل عراقی وزیراعظم یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ کہ اگر اربیل حکومت نے ریفرنڈم کے نتائج مسلط کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور ریفرنڈم کے نتائج سے پھیلنے والی انارکی سے بقیہ قومیتوں کو نقصان پہنچا تو کردستان ریجن کے خلاف عسکری مداخلت عمل میں آئے گی۔
العبادی نے خود مختاری کے حوالے سے منعقد کیے جانے والے ریفرنڈم کو غیر آئینی قرار دیا۔
عراقی وزیر اعظم نے باور کرایا کہ بغداد اس ریفرنڈم کے نتائج کو ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلہ ہے.. ریفرنڈم کے نتیجے میں کوئی ایسی چیز نہ ہو گی جس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ یہ ریفرنڈم واضح طور پر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں خود کُردوں میں اس حوالے سے اختلاف پایا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک بُری بلکہ انتہائی بُری حرکت ہے"۔
-
خطے میں ایک اور اسرائیل نہیں بننے دیں گے: المالکی
کردستان کی آزادی کے لیے ریفرنڈم خطرناک پیش رفت
مشرق وسطی -
کردستان ریفرنڈم غیر آئینی ہے ، کوئی سنجیدہ نتیجہ نہیں نکلے گا : حیدر العبادی
عراقی وزیراعظم نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اربیل حکومت نے ریفرنڈم کے نتائج مسلط کرنے کے ...
مشرق وسطی -
کردستان میں ریفرنڈم قومی سلامتی کا مسئلہ ہے:ترکی
ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی عراق کے ...
مشرق وسطی